پشاور میں نجی اسکول کی چھت گرنے سے متعدد بچے ملبے تلے دب گئے،امدادی کارروائیاں جاری

پشاور: خیبر پختونخوا میں سابق حکمرانوں کی 13 سالہ مجرمانہ غفلت، کرپشن اور نااہلی کا خمیازہ ایک بار پھر معصوم نونہالوں کو اپنی جانیں دے کر بھگتنا پڑ گیا۔

صوبائی دارالحکومت پشاور کے علاقے دیر کالونی، کالج روڈ پر واقع نجی اسکول کی خستہ حال عمارت کی چھت اچانک زمین بوس ہو گئی، جس کے نتیجے میں معصوم بچے اور اساتذہ ملبے تلے دب گئے۔

لیڈی ریڈنگ ہسپتال (ایل آر ایچ) کے ترجمان محمد عاصم کے مطابق اس دلخراش سانحے میں 17 معصوم بچوں اور ایک خاتون ٹیچر کو مردہ حالت میں ایل آر ایچ لایا گیا ہے، جس سے جاں بحق افراد کی تعداد 18 ہو گئی ہے۔

جاں بحق ہونے والے تمام بچوں کی عمریں 13 سال تک ہیں۔ اس کے علاوہ 40زخمی بچوں کو بھی ایمرجنسی میں طبی امداد دی جا رہی ہے، جن میں سے کچھ کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

ترجمان ایل آر ایچ کے مطابق ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور انتظامیہ اس وقت خود ٹراما ہال میں موجود رہ کر زخمیوں کو فوری طبی سہولیات کی فراہمی کا جائزہ لے رہی ہے۔

حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ڈیزاسٹر ٹیمیں اور ایمبولینسز موقع پر پہنچ گئیں اور ہنگامی بنیادوں پر ملبہ ہٹانے کا کام شروع کر دیا گیا۔ ریسکیو حکام کے مطابق ملبے تلے مزید بچوں اور افراد کے دبے ہونے کا شدید خدشہ ہے، جس کے باعث اموات میں مزید اضافے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب، مشیر اطلاعات ثمر ہارون بلور نے اس المناک واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی ہے۔

انہوں نے ریسکیو عملے کو امدادی کارروائیاں مزید تیز کرنے اور ملبے تلے دبے تمام افراد کو فوری باہر نکالنے کی ہدایت کی، جبکہ ہسپتال انتظامیہ کو زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔

پشاور کی عوام کا شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہنا ہے کہ 13 سال تک اقتدار کے مزے لوٹنے والوں نے تعلیمی اداروں کی عمارتوں اور انفراسٹرکچر کی مرمت کے بجائے صرف جھوٹے نعروں، کرپشن اور انتشار کی سیاست پر توجہ دی، جس کے نتیجے میں آج پختونخوا کے معصوم پھول ملبے کے ڈھیر تلے اپنی زندگیوں کی بازی ہار رہے ہیں۔

Scroll to Top