بچوں کی لاشوں کے سوداگر، ایم این اے آصف خان، فضل الہیٰ اور اسکول مالک خان محمد کا رشوت کے بدلے معصوموں کی زندگیوں کا سودا

پشاور: پشاور کے علاقے دیر کالونی میں نجی اسکول کی چھت گرنے کے دلخراش اور خونریز سانحے نے پی ٹی آئی کے مکروہ چہرے کو پوری طرح بے نقاب کر دیا۔ 

تحقیقات میں یہ بات کھل کر سامنے آگئی ہے کہ اس انسانی المیے کے پیچھے کوئی حادثہ نہیں بلکہ تحریک انصاف کے مقامی سیاسی مافیا کی مجرمانہ غفلت، سفارش کلچر اور کرپشن کا ناپاک جال تھا۔

عوامی اور تحقیقاتی شواہد کے مطابق اسکول کے مالک خان محمد جو کہ کھل کر پی ٹی آئی کے حامی اور سرپرست بنے پھرتے تھے، نے علاقے کے پی ٹی آئی کے طاقتور ایم این اے آصف خان اور  سابق ایم پی اے فضل الہیٰ کی پشت پناہی اور آشیرباد سے تمام قانون کو روند ڈالا۔

آصف خان اور فضل الہیٰ کی سرپرستی: قانون کو پاؤں تتلنے والا مافیا

پشاور کے عوام اور متاثرہ خاندانوں نے چیخ چیخ کر انکشاف کیا ہے کہ اسکول مالک خان محمد کو سیاسی تحفظ دینے والے کوئی اور نہیں بلکہ پی ٹی آئی کے نام نہاد عوامی نمائندے آصف خان اور فضل الہیٰ تھے۔

جعلی این او سیز اور رشوت کا بازار

ان دونوں سیاسی کارندوں کی شہ پر خستہ حال اور غیر قانونی عمارتوں میں اسکول چلانے کے لیے دھڑا دھڑ جعلی این او سیز جاری کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں : نااہل وزیرِ تعلیم اور کمیشن مافیا کی ملی بھگت سے اربوں روپے کے فنڈز ہڑپ، معصوم بچوں کی لاشوں پر پی ٹی آئی کا مکروہ چہرہ بے نقاب

جانوں کا سودا

 سیاسی دباؤ اور رشوت کے زور پر بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور محکمہ تعلیم کے منہ بند رکھے گئے تاکہ اسکول مافیا بلا روک ٹوک معصوم بچوں کے مستقبل اور زندگیوں سے کھیلتا رہے۔

سیاسی چہرہ بے نقاب

 عوام کا کہنا ہے کہ یہ ایم این اے آصف خان اور ایم پی اے فضل الہیٰ وہی لوگ ہیں جو اقتدار میں آکر عوام کو سبز باغ دکھاتے ہیں لیکن پردے کے پیچھے اپنے حامیوں اور کرپٹ عناصر کو بچانے کے لیے ہر گھناؤنا ہتھکنڈا استعمال کرتے ہیں۔

حامی اسکول مالک خان محمد کا مکروہ کردار

پی ٹی آئی کا پالا ہوا حامی اور اسکول کا مالک خان محمد انسانیت کا قاتل ثابت ہوا ہے۔ منافع کی ہوس میں اندھے اس شخص نے بچوں کی جانوں کی پروا کیے بغیر ایک خستہ حال عمارت میں تعلیمی ادارہ کھول رکھا تھا۔

 جب بھی اس غیر قانونی عمارت کے خلاف آواز اٹھی، تو خان محمد نے ایم این اے آصف خان اور ایم پی اے فضل الہیٰ کے نام کا رعب ڈال کر تمام اداروں کو خاموش کروا دیا۔

یہ بھی پڑھیں : کرپٹ نظام، جعلی این او سی اور پی ٹی آئی کی مجرمانہ غفلت، تحریکِ انتشار اور نااہل حکومت کے خلاف عوام کا پھوٹ پڑا آتش فشاں

 آج اس حامی مافیا کی وجہ سے 29گھروں کے چراغ گل ہو چکے ہیں اور درجنوں بچے اسپتالوں میں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

عوام کا شدید غصہ: قاتل سیاستدانوں کو کٹہرے میں لایا جائے

واقعے کے بعد دیر کالونی اور پشاور بھر میں عوام کا آتش فشاں پھٹ پڑا ہے۔ شہریوں نے سڑکوں پر آکر آصف خان، فضل الہیٰ اور خان محمد کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور خون کے ہر قطرے کا حساب مانگ لیا۔

آصف خان، فضل الہیٰ اور ان کا حامی خان محمد قاتل ہیں،ان سیاسی مداریوں نے کرپشن اور کمیشن کے لیے معصوم بچوں کو موت کے منہ میں دھکیلا ہے۔ یہ لوگ سیاست کے نام پر دلال ہیں جو پیسوں کی خاطر بچوں کے لاشوں پر بھی سیاست کرنے سے باز نہیں آتے۔

 عوام، سول سوسائٹی اور والدین نے حکومت اور اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ محض اسکول مالک خان محمد کو گرفتار کرنا کافی نہیں، بلکہ آصف خان اور فضل الہیٰ کو بھی فوری طور پر اس سانحے میں نامزد کیا جائے، ان کی سیاسی سرپرستی کا قلع قمع کیا جائے، اور انہیں عبرت کا نشان بنایا جائے تاکہ آئندہ کوئی سیاسی مافیا معصوم بچوں کی جانوں سے کھیلنے کی جرأت نہ کر سکے۔

Scroll to Top