پشاورمیں غیر محفوظ سکول عمارتیں سیل کرنے کا فیصلہ

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ اسکول حادثے کے ذمہ داروں کے خلاف بھرپور کارروائی کی جائے گی، کسی کے ساتھ رعایت نہیں برتی جائے گی اور غفلت کے مرتکب افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

 سرکاری اور نجی اسکولوں کا آڈٹ کرایا جا رہا ہے جبکہ اسکولوں کی منظوری اور این او سی جاری کرنے کے عمل میں ذمہ دار افراد کا بھی تعین کیا جائے گا۔

پشاور کے دیر کالونی میں سکول کی چھت گرنے کے باعث شہید بچوں کے اہلخانہ سے تعزیت اور فاتحہ خوانی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ گزشتہ روز پیش آنے والا واقعہ انتہائی افسوس ناک سانحہ ہے۔ ہم نے بہت سے سانحات دیکھے ہیں، لیکن یہ ایک بڑا سانحہ ہے۔

 گورنر نے کہا  کسی کے بچے یا اولاد کا دنیا سے چلے جانا ایسا نقصان ہے جس کا ازالہ ممکن نہیں۔ متاثرہ خاندانوں کے لیے امداد کا اعلان کیا گیا ہے، جس کے تحت شہید ہونے والے ہر فرد کے لواحقین کو 10 لاکھ روپے جبکہ زخمیوں کو 3 لاکھ روپے امداد دی جائے گی۔

 

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ اسکول کے معاہدے اور لیز سے متعلق معاملات بھی سامنے آئے ہیں۔ ایڈوائزر اور متعلقہ وزارت کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ سرکاری اور نجی اسکولوں کے حوالے سے این او سی جاری کرنے والے ذمہ داران کا تعین کیا جائے۔

آئندہ 15 دنوں کے اندر متعلقہ ذمہ داریاں پوری کرنے اور سزا و جزا کے عمل کو تیز کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ سرکاری اسکولوں کے ساتھ نجی اسکولوں کا بھی آڈٹ کرایا جا رہا ہے۔ متعلقہ اسکول کی این او سی اور دیگر دستاویزات کی جانچ پڑتال کی جائے گی تاکہ معلوم ہو سکے کہ منظوری کس نے دی اور اس معاملے میں کون کون ذمہ دار ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسکولوں کی حفاظت کے حوالے سے 2017 میں قانون بنایا گیا تھا، تاہم اب اس پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: وزیر داخلہ محسن نقوی کا بنوں پولیس کے لیے اقدام، جدید بلٹ پروف گاڑیاں پولیس لائن پہنچ گئیں

انہوں نے مزید کہا کہ اسکول کے مالک کو گرفتار کیا گیا ہے اور اس واقعے میں مزید جو بھی ملوث پایا گیا، اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔ سابقہ حکومت کے دور میں ہونے والی مبینہ کرپشن کے حوالے سے بھی تحقیقات کی جائیں گی اور جس افسر کے خلاف شواہد سامنے آئے، اسے جواب دہ ہونا پڑے گا۔

فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ ایک طرف ملک دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، جبکہ دوسری طرف بچوں کی زندگیوں سے کھیلنے والے عناصر بھی کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ ماضی میں ایسے واقعات کے بعد کمیٹیاں بنا کر معاملات کو دبانے کی کوشش کی جاتی رہی، لیکن اب ایسا نہیں ہوگا۔

 

گورنر خیبرپختونخوا نے واضح کیا کہ اسکولوں میں حفاظتی انتظامات یقینی بنانا ہوں گے اور غفلت برتنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔ کسی بھی ذمہ دار کو معاف نہیں کیا جائے گا اور کارروائی شواہد اور قانون کے مطابق کی جائے گی۔

Scroll to Top