شمالی کوریا کے حکمران کم جونگ اُن کی موت اور کوما کی خبریں: حقیقت سامنے آ گئی

 شمالی کوریا کے سنسنی خیز اور پراسرار رہنما کم جونگ اُن کی کوما میں جانے اور اچانک موت سے متعلق پھیلنے والی افواہوں کے بعد سرکاری میڈیا نے ان کی بالکل نئی تصاویر جاری کر کے تمام قیاس آرائیوں کا ڈراپ سین کر دیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے یونہاپ اور کورین سینٹرل نیوز ایجنسی کے مطابق کم جونگ اُن نے دارالحکومت پیانگ یانگ میں ملبوسات اور جوتوں کی ایک نمائش کا دورہ کیا۔ 

سرکاری میڈیا کی جانب سے جاری کردہ تصاویر میں کم جونگ اُن کے ساتھ ان کی اہلیہ ری سول جو اور ان کی بیٹی کم جو اے بھی موجود دکھائی دے رہی ہیں۔ یہ دورہ 19 اکتوبر کو کیا گیا تھا جس کے بعد انٹرنیٹ پر جاری افواہوں اور سنسنی خیز دعوؤں کو بڑا دھچکا لگا ہے۔

اس سے قبل سوشل میڈیا پر وانجن ژی نامی صارف کی پوسٹس کے ذریعے یہ سنسنی خیز دعوے سامنے آئے تھے کہ کم جونگ اُن دماغ میں شدید خون بہنے کی وجہ سے کوما میں چلے گئے ہیں۔ ان پوسٹس میں یہاں تک دعویٰ کیا گیا کہ انہیں علاج کی غرض سے خفیہ طور پر بیجنگ کے پیکنگ یونین میڈیکل کالج اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کی موت واقع ہو گئی اور لاش کو رازدارانہ طریقے سے شمالی کوریا واپس پہنچایا گیا۔

 سوشل میڈیا پر یہ افواہیں بھی گردش کر رہی تھیں کہ چین نے اقتدار کی منتقلی کو مستحکم کرنے اور کم جونگ اُن کی بیٹی کی مدد کے لیے 9 ہزار فوجی پیانگ یانگ بھیجے ہیں جبکہ چینی فوج کی شمالی کمانڈ نے چھٹیاں بھی منسوخ کر دی ہیں۔

تاہم انٹرنیشنل بزنس ٹائمز اور دی سن سمیت بین الاقوامی خبر رساں اداروں نے ان تمام باتوں کو محض انٹرنیٹ کی قیاس آرائیاں قرار دیا ہے۔ ان دعوؤں کی تصدیق کے لیے کوئی طبی ثبوت، اسپتال کا ریکارڈ یا باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی، جبکہ چین اور شمالی کوریا دونوں نے ہی ایسی کسی طبی ایمرجنسی کی مکمل تردید کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : پختونخوا کو تباہ کرنے والوں کے پروپیگنڈے کا دور ختم!جھوٹے نعروں کی سیاست دفن، اب صرف عملی اقدامات ہوں گے،ثمرہارون بلور کی پریس کانفرنس

دوسری جانب کم جونگ اُن کی بااثر بہن کم یو جونگ نے ایک اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ شمالی کوریا جنوبی کوریا کی سرحد کے قریب اضافی حربی ہتھیاروں کی تعیناتی اور لاؤڈ اسپیکر نشریات دوبارہ شروع کرنے پر غور کر رہا ہے۔ ان کے اس بیان میں اقتدار کی منتقلی سے متعلق کسی قسم کی بات نہیں کی گئی، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ پیانگ یانگ کے سیاسی اختیارات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔

 واضح رہے کہ کم جونگ اُن کی صحت سے متعلق ایسی ہی ڈرامائی افواہیں 2020 میں بھی پھیلی تھیں جب وہ 3 ہفتے منظرعام سے غائب رہے تھے۔

Scroll to Top