سینیٹ کی کرسی کی جنگ:شیرافضل مروت نے سلمان اکرم راجہ کا نقاب اتار دیا!

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اندرونی شدید اختلافات، منصب کی ہوس اور عہدوں کی بندر بانٹ کی جنگ ایک بار پھر مکمل طور پر کھل کر سامنے آ گئی ہے۔

ا س سلسلے میں پی ٹی آئی کے سینئر رہنما شیر افضل مروت نے اپنی ہی پارٹی کی صفوں میں جاری شدید کھینچ تان اور بے اصولی کا پردہ چاک کر دیا ہے۔

شیر افضل مروت نے سنسنی خیز دعویٰ کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ پارٹی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کی نظریں اس وقت سینیٹر شپ کی نشست پر جم چکی ہیں اور وہ اپنی ہی پارٹی کے رہنماؤں کے خلاف محلاتی سازشوں میں مصروف ہیں۔

شیر افضل مروت کے مطابق سلمان اکرم راجہ سینئر قانون دان بیرسٹر علی ظفر کو سینیٹ کی نشست سے ہٹوانا چاہتے ہیں تاکہ ان کی جگہ وہ خود سینیٹر بن سکیں۔

اس مقصد کے لیے پارٹی کے اندر شدید جوڑ توڑ اور بیرسٹر علی ظفر کی ٹانگیں کھینچنے کی کوششیں عروج پر ہیں۔

شیر افضل مروت کے اس بیان نے پی ٹی آئی کے اندر جاری جعلی نظریاتی نعروں اور منافقت پر مبنی نورا کشتی کو عوام کے سامنے بالکل ننگا کر دیا ہے۔

سیاسی و معاشی بحران کے اس دور میں جہاں پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت کو صوبے اور ملک کے مسائل کی فکر ہونی چاہیے تھی وہاں اس انکشاف نے ثابت کر دیا ہے کہ تحریک انصاف کے رہنما محض اپنے ذاتی مناصب، سینیٹ کی نشستوں اور ذاتی اقتدار کی دوڑ میں اندھے ہو چکے ہیں۔

پارٹی کے اندر شدید دھڑے بندی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ مشکل ترین وقت میں بھی ہر رہنما صرف اپنے ذاتی مفاد اور کرسی کو ترجیح دے رہا ہے۔

یہ پہلی بار نہیں ہے کہ پی ٹی آئی کا مکروہ چہرہ سامنے آیا ہو، اس سے قبل شوکت یوسفزئی نے بھی پارٹی کی ریاست مخالف پالیسیوں اور منافقت کو بے نقاب کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ اس سوچ نے پارٹی کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔

دوسری جانب پرویز خٹک نے پی ٹی آئی کی کرپٹ اور ناکام حکومت سے نجات ملنے پر نوشہرہ میں “یومِ نجات” ریلی کا اعلان کر کے پہلے ہی پی ٹی آئی کی 13 سالہ بدعنوانیوں پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی تھی۔

شیر افضل مروت کے اس دھماکے دار انکشاف اور بڑھتے ہوئے خلفشار پر بیرسٹر علی ظفر کو شدید دباؤ کے بعد بلاخر اپنا صفائی نامہ پیش کرنا پڑ گیا ہے۔

انہوں نے پارٹی فیصلوں میں پارلیمانی کمیٹی کو مضبوط بنانے کی بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں کسی عہدے کی کوئی فکر نہیں ہے۔ تاہم سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ بیرسٹر علی ظفر کی یہ صفائی اور من گھڑت دفاعی بیانات حقیقت کو چھپا نہیں سکتے۔

یہ بھی پڑھیں : گروہ بندی اور خفیہ راز افشا ہونے کا خوف: تحریک انصاف نے ڈوبتی کشتی بچانے کے لیے پھر گنڈاپور کا سہارا لے لیا!

شیر افضل مروت کے انکشافات نے یہ حتمی طور پر ثابت کر دیا ہے کہ پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت میں باہمی اعتماد کا شدید فقدان ہے اور ہر رہنما ایک دوسرے کے خلاف خنجر گھونپنے کی طاق میں بیٹھا ہے۔

عوام کو لالی پاپ دینے والے یہ رہنما درحقیقت سینیٹر شپ اور سرکاری مراعات کے لیے ہر سیاسی و اخلاقی حد پار کرنے کو تیار ہیں جس کے باعث تحریک انصاف اب ایک سیاسی جماعت کے بجائے محض مفاد پرستوں کا دھڑا بن کر رہ گئی ہے۔

Scroll to Top