پشاور ہائی کورٹ کی ایڈووکیٹ پلوشہ رانی نے پختون ڈیجیٹل پوڈکاسٹ میں سوشل میڈیا پر قوانین اور خواتین کے تحفظات کے حوالے سے اہم معلومات فراہم کیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پروٹیکشن ریگولیٹری اتھارٹی کی طاقت اور اس کے اختیارات پر بھی روشنی ڈالی۔
پلوشہ رانی نے کہا کہ سوشل میڈیا صارفین اور اداروں کو سوشل میڈیا پر کام کرنے کے لیے لائسنس حاصل کرنا پڑے گا، اور اس کے لیے انہیں حکومت کی جانب سے مقرر کردہ ضوابط اور شرائط پر عمل کرنا ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ سوشل میڈیا پروٹیکشن ریگولیٹری اتھارٹی کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ صارفین کی سرگرمیوں کو مانیٹر کرے، ان کے خلاف کارروائی کرے اور ان کے مواد کو ہٹانے کی درخواست کرے۔
ایک سوال کے جواب میں پلوشہ رانی نے کہا کہ متاثرہ شخص سرکاری اہلکار کی ویڈیو کو ثبوت کے طور پر استعمال کر سکتا ہے، لیکن قانون نافذ کرنے والے ادارے کے کسی اہلکار کی ویڈیو بنانا اور سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنا پیکا ایکٹ کے تحت غیر قانونی ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ اگر کوئی فرد اس طرح کی ویڈیو بناتا ہے اور اسے عوامی سطح پر شیئر کرتا ہے تو یہ ایک قابل سزا جرم ہے۔
پلوشہ رانی نے پیکا ایکٹ کے تحت خواتین کو فراہم کیے گئے تحفظات پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے لیے آن لائن ہراسانی، تشویش اور دیگر بدسلوکیوں کے حوالے سے ایک مضبوط قانونی فریم ورک موجود ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے پیکا ایکٹ میں خصوصی دفعات شامل کی گئی ہیں جو ان کو آن لائن تشہیر، ہراسانی اور دیگر مشکلات سے بچانے کے لیے کام کرتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں پشاور ہائی کورٹ میں پیکا ایکٹ چیلنج
اس کے علاوہ پلوشہ رانی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پیکا ایکٹ صرف پاکستان میں ہی نہیں، بلکہ بیرون ملک رہنے والے افراد کے خلاف بھی کارروائی کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر کسی فرد نے پاکستان میں جرم کیا اور وہ بیرون ملک مقیم ہے، تو اس کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے اور قانون کی گرفت میں لایا جا سکتا ہے۔
پلوشہ رانی نے خواتین کو سوشل میڈیا کے استعمال کے دوران محتاط رہنے کی ہدایت کی اور انہیں اپنے حقوق اور تحفظات کے بارے میں آگاہ کیا تاکہ وہ آن لائن دنیا میں محفوظ رہ سکیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر خواتین کو آن لائن ہراسانی یا دیگر مشکلات کا سامنا ہو تو وہ فوراً قانونی کارروائی کر سکتی ہیں اور انہیں قانونی مدد فراہم کی جائے گی۔





