صوبے میں نیا کچھ نہیں، پرانے منصوبوں پر تختیاں لگائی جارہی ہیں: رہنما اے این پی

پشاور :عوامی نیشنل پارٹی کی مرکزی جائنٹ سیکرٹری اور سابق رکن صوبائی اسمبلی شگفتہ ملک نے الزام عائد کیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں نئے ترقیاتی منصوبوں کے بجائے سابقہ حکومتوں کے منصوبوں پر تختیاں لگا کر عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔

پختون ڈیجیٹل پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے شگفتہ ملک نے کہا کہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے حالیہ دورۂ مردان کے دوران ایک ایسے ہسپتال کا افتتاح کیا جو 2011 میں شروع ہوا اور 2013 میں مکمل ہو چکا تھا، لیکن پی ٹی آئی کی گزشتہ دو حکومتیں اور موجودہ حکومت اسے فعال کرنے میں ناکام رہیں۔

انہوں نے این ایف سی ایوارڈ اور صوبائی حقوق کے معاملے پر بھی پی ٹی آئی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ماضی میں وفاق اور صوبے میں ایک ہی جماعت کی حکومت کے باوجود صوبائی حقوق کی بات نہیں کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اب یہ تمام دعوے صرف پوائنٹ اسکورنگ کے لیے کیے جا رہے ہیں۔

شگفتہ ملک نے علی امین گنڈاپور کو “برائے نام وزیراعلیٰ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اب تک صوبے کے اہم مسائل پر کسی بھی سیاسی جماعت کو اعتماد میں نہیں لیا۔

انہوں نے زور دیا کہ این ایف سی ایوارڈ کا اجرا آبادی کے بجائے پسماندگی کی بنیاد پر ہونا چاہیے تاکہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان جیسے متاثرہ صوبوں کو ان کا حق ملے۔

مائنز اینڈ منرل ایکٹ کے حوالے سے شگفتہ ملک نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان کی بہن علیمہ خان نے اس قانون کی منظوری کو عمران خان کی رہائی سے مشروط کیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ صوبے کے وسائل کو ایک شخص کی رہائی سے مشروط کرنا کہاں کا انصاف ہے؟

یہ بھی پڑھیں مائنز اینڈ منرلز ایکٹ خیبر پختونخوا کی خود مختاری پر حملہ ہے، اے این پی

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کی جانب سے جاری کیے گئے ویڈیو بیان میں قانون کی وضاحت تو کی گئی، لیکن اس اہم سوال کا جواب نہیں دیا گیا کہ علیمہ خان نے ایسی شرط کیوں رکھی۔

یاد رہے کہ پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ مائنز اینڈ منرل ایکٹ صرف عمران خان کی منظوری کے بعد اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔

Scroll to Top