غزہ پر اسرائیل کا محاصرہ، غذائی بحران کی شدت میں اضافہ، ہزاروں بچے متاثر

غزہ پر اسرائیل کا محاصرہ، غذائی بحران کی شدت میں اضافہ، ہزاروں بچے متاثر

اسرائیلی محاصرے اور حملوں کی وجہ سے غزہ میں غذائی بحران سنگین صورت اختیار کر چکا ہے، امدادی تنظیموں اور اقوام متحدہ کے مطابق ہزاروں بچے شدید غذائی کمی کا شکار ہیں اور بیشتر افراد بمشکل ایک وقت کا کھانا کھا پاتے ہیں۔

غزہ میں 48 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملوں میں 90 سے زائد افراد کی شہادت کی تصدیق کی گئی ہے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، تاہم اس وقت سب سے زیادہ تشویش کا باعث غذائی کمی ہے جس کے اثرات غزہ کی 90 فیصد بے گھر آبادی پر مرتب ہو رہے ہیں۔

غذائی قلت کی وجہ سے بچوں میں خوراک کی کمی، کمزوری اور صحت کے مسائل بڑھ گئے ہیں، اقوام متحدہ کے مطابق غزہ کے بیشتر علاقوں میں لوگوں کو ایک دن میں صرف ایک کھانا نصیب ہو رہا ہے، ایندھن کی کمی کے باعث امدادی سامان کی ترسیل بھی مشکل ہو گئی ہے جس کی وجہ سے خوراک کا ذخیرہ تیزی سے کم ہو رہا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مشرق وسطیٰ کے دفتر کی سربراہ ڈاکٹر حنان بلخی نے کہا کہ غزہ میں غذائی بحران بہت سنگین ہو چکا ہے اور ہمیں اس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے، ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل پر دباؤ ڈالنا ضروری ہے تاکہ غزہ میں خوراک اور دیگر ضروری امداد پہنچ سکے۔

روس یوکرین کشیدگی میں نرمی، ایسٹر کے موقع پر جنگ بندی اور درجنوں قیدی رہا

غزہ کے ہسپتالوں میں بھی خوراک کی کمی اور ادویات کی شدید قلت کا سامنا ہے جس کی وجہ سے صحت کے نظام پر دباؤ بڑھ رہا ہے، امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ غذائی قلت کی شدت کا اثر غزہ میں ہر عمر کے افراد پر پڑ رہا ہے، اور اگر صورتحال ایسی رہی تو کئی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں،

Scroll to Top