خیبر پختونخوا میں لیکچرار اور اساتذہ تنخواہوں کیلئے رو رہے ہیں، فیصل کریم کنڈی

اسلام آباد: گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں لیکچرار اور اساتذہ اپنی تنخواہوں کے لیے رو رہے ہیں، جبکہ سابق حکومت لاہور میں بار کونسل کو کروڑوں روپے بانٹ رہی تھی۔

اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر کنڈی نے کہا کہ خیبر پختونخوا کو خود کفیل قرار دیا جاتا ہے، مگر عملی صورتحال یہ ہے کہ تعلیمی شعبے سے وابستہ افراد تنخواہوں کے لیے دربدر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ان لوگوں کو تنخواہیں دی جائیں جو قوم کا مستقبل سنوار رہے ہیں، پھر باقی کام کیے جائیں۔

انہوں نے نہری نظام سے متعلق امور پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ اہم مسئلہ ہے اور اس حوالے سے فوری طور پر مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) کا اجلاس بلایا جانا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ نہروں کے مسئلے پر تمام فریقین کو فورم کے ذریعے بات کرنی چاہیے تاکہ قابلِ عمل حل نکل سکے۔

نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کے حالیہ دورۂ افغانستان پر بات کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ یہ دورہ خوش آئند ضرور ہے، تاہم اس میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی نمائندگی نہ ہونا ایک تشویش ناک پہلو ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ نائب وزیر اعظم دونوں صوبوں کی اسمبلیوں کو اپنے دورے کے بارے میں بریفنگ دیں۔

یہ بھی پڑھیں گورنر خیبر پختونخوا نے علی امین گنڈا پور کا بیان غیر ذمہ دارانہ قرار دے دیا

گورنر نے کہا کہ ایسے اہم دوروں میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی نمائندگی ہونی چاہیے تاکہ قومی پالیسی سازی میں تمام اکائیوں کی آواز شامل ہو۔

فیصل کریم کنڈی نے اختتام پر کہا کہ مسائل کا حل صرف باہمی مشاورت اور سنجیدہ مکالمے سے ممکن ہے، اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک میز پر بیٹھ کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔

Scroll to Top