چین اور امریکہ تجارتی جنگ، چین کے یو اے ای سے ایل این جی خریدنے کے2 معاہدے

بیجنگ/ابوظہبی: چین اور امریکہ کے درمیان جاری ٹیرف جنگ میں امریکہ کو ایک اور اقتصادی دھچکا لگ گیا ہے،

جب کہ چین نے توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے امریکی سپلائرز کی بجائے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے ایل این جی (مائع قدرتی گیس) کی خریداری کے دو اہم معاہدے کر لیے ہیں۔

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق چین کی ایک بڑی توانائی کمپنی نے یو اے ای کی کمپنی کے ساتھ پانچ سالہ معاہدہ طے کیا ہے، جس کے تحت 2026 سے ہر سال پانچ لاکھ ٹن ایل این جی چین کو فراہم کی جائے گی۔

اسی طرح ایک اور چینی کمپنی نے ابوظہبی سے 15 سال کے لیے ایل این جی خریدنے کا معاہدہ کیا ہے، جو 2028 سے نافذ العمل ہوگا اور اس کے تحت سالانہ 10 لاکھ ٹن گیس کی ترسیل کی جائے گی۔

معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام چین کی توانائی پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے، جو امریکہ پر انحصار کم کر کے مشرق وسطیٰ کی جانب رجحان کو ظاہر کرتا ہے۔

فنانشل ٹائمز کے مطابق چینی کمپنیوں نے امریکہ میں نجی شعبے میں نئی سرمایہ کاری کو معطل کر دیا ہے اور اب وہ امریکی کمپنیوں کو سرمایہ کاری کے وعدے یا فنڈز فراہم نہیں کریں گی۔

یہ بھی پڑھیں چیئرمین جوائنٹ چیفس کا یو اے ای کا دورہ، سول اور فوجی قیادت سے ملاقاتیں

یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی اور سیاسی تعلقات میں تناؤ بڑھتا جا رہا ہے، جس کا براہِ راست اثر دونوں ممالک کے اقتصادی روابط پر پڑ رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین کے ان فیصلوں سے امریکہ کو توانائی کی برآمدات میں نقصان کا سامنا ہو سکتا ہے، جب کہ یو اے ای کے لیے یہ ایک اہم تجارتی فتح سمجھی جا رہی ہے۔

Scroll to Top