راولپنڈی: اڈیالہ جیل میں قید پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی اپنے وکلا سے ہونے والی حالیہ ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے، جس میں انہوں نے پارٹی کے اندرونی معاملات اور ملکی صورتحال پر کھل کر گفتگو کی۔
ذرائع کے مطابق عمران خان نے ملاقات کے دوران شیر افضل مروت سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “شکر ہے، شیر افضل مروت سے جان چھوٹی”۔ انہوں نے شیر افضل مروت کے وکلا کی فیسوں اور علیمہ خان کے بارے میں ان کے دیے گئے بیانات پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان نے خیبرپختونخوا میں معدنی وسائل سے متعلق متنازعہ “مائنز اینڈ منرلز بل” پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس معاملے پر علی امین گنڈاپور کو خصوصی طور پر ملاقات کے لیے بلایا ہے تاکہ اس اہم قانون سازی پر بات چیت کی جا سکے۔
عمران خان نے پارٹی قیادت کو پیغام دیا کہ موجودہ حالات میں تمام اندرونی اختلافات ختم کیے جائیں اور قیادت متحد ہو کر آگے بڑھے۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے بیرسٹر گوہر کو ان کے حالیہ “معذرت خواہانہ” رویے پر سخت پیغام بھی بھجوایا۔
یہ بھی پڑھیں: کسی نے ’واردات‘ نہ ڈالی تو عمران خان 45 دن میں رہا ہوسکتے ہیں، شیر افضل مروت کا دعویٰ
عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت نے افغانستان کے ساتھ سفارتی بات چیت میں غیر معمولی تاخیر کی ہے، جس کے اثرات خیبرپختونخوا جیسے دہشت گردی سے متاثرہ صوبے پر براہِ راست مرتب ہو رہے ہیں۔
مزید برآں، عمران خان نے قانون کی عملداری کے فقدان پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سینئر وکیل سلمان اکرم راجہ کو ہدایت دی کہ وہ اس معاملے پر چیف جسٹس آف پاکستان کو ایک خط لکھیں، تاکہ عدلیہ کو اس سنگین صورت حال سے آگاہ کیا جا سکے۔





