پہلگام حملے کے بارے میں کیرالہ ہائیکورٹ کے ججز کا بھارتی دعوئوں کی حقیقت بے نقاب

پہلگام حملے کے بارے میں کیرالہ ہائیکورٹ کے ججز کا بھارتی دعوئوں کی حقیقت بے نقاب

کیرالہ ہائیکورٹ کے تین ججز جو جموں و کشمیر کے دورے پر تھے، نے پہلگام حملے کے حوالے سے بھارتی پروپیگنڈے کو بے نقاب کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق کیرالہ ہائیکورٹ کے تین ججز، جو حال ہی میں جموں و کشمیر کے دورے پر گئے تھے نے بھارتی میڈیا کے جھوٹے دعوئوں کو بے نقاب کر دیا ہے، جو کہ پہلگام حملے کے وقت ان کے وہاں موجود ہونے کے حوالے سے چل رہے تھے۔ ججز انیل کے نیرندرن، جی گیریش اور پی جی اجیت کمار اپنے اہلخانہ کے ہمراہ تعطیلات منانے کے لیے جموں و کشمیر گئے تھے اور حملے سے قبل وہ سرینگر پہنچ چکے تھے۔

بھارتی میڈیا میں یہ خبریں پھیلائی گئی تھیں کہ یہ ججز حملے کے وقت پہلگام میں موجود تھے، تاہم ایک انٹرویو میں ججوں نے اس دعوے کی حقیقت کو واضح کر دیا۔ ان ججز نے بتایا کہ وہ 17 اپریل کو جموں و کشمیر گئے اور 21 اپریل کو پہلگام پہنچے۔ انہوں نے وہاں کچھ دن گزارے اور معروف سیاحتی مقامات کا دورہ کیا۔

جسٹس نیرندرن نے بھارتی اخبار ’’دی ہندو‘‘ کو بتایا کہ وہ 22 اپریل کو حملے سے چند گھنٹے قبل، صبح 9:30 بجے پہلگام سے روانہ ہو چکے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا ڈرائیور انہیں مزید سیاحتی مقامات پر لے جانے کی پیشکش کر رہا تھا، مگر انہوں نے سرینگر واپس جانے پر اصرار کیا تاکہ وہ ڈھل جھیل میں کشتی کی سواری کر سکیں، اور وہ بخیریت سرینگر پہنچ گئے۔

جسٹس نیرندرن نے یہ بھی بتایا کہ سرینگر میں ہوٹل میں انہوں نے ایک شخص سے ملاقات کی جو حملے کے مقام سے بمشکل بچ کر آیا تھا، اور وہ شدید خوف میں مبتلا تھا۔

یہ ججز کا انکشاف بھارتی پروپیگنڈے کی حقیقت کو واضح کرتا ہے اور یہ ثابت کرتا ہے کہ بھارتی میڈیا نے حقیقت کو توڑ مروڑ کر پیش کیا۔

Scroll to Top