کراچی میں متنازع کینالز کی تعمیر کے خلاف وکلا بھی سڑکوں پر نکل آئے، لنک روڈ پر وکلا اور پولیس میں تصادم کے نتیجے میں وکیل سمیت متعدد افراد زخمی ہوگئے۔
پولیس نے لاٹھی چارج کر کے احتجاجی کیمپ کو ہٹا دیا، وکلا کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ کیا گیا جس کے بعد صورتحال کشیدہ ہوگئے، وکلا اور قوم پرست جماعتوں کے کارکنان دوبارہ دھرنا دے کر بیٹھ گئے۔
پولیس کی جانب سے احتجاجی کیمپ کو ہٹانے پر وکلا اور مظاہرین نے شدید ردعمل دکھایا جس کے باعث پولیس موبائل کے شیشے ٹوٹ گئے اور دھرنے کی جگہ میدان جنگ میں تبدیل ہو گئی، پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے فائرنگ اور شیلنگ کی جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے۔
دھرنے کے باعث کراچی کی مختلف شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی متاثر ہو گئی ہے ، ٹھٹھہ کراچی قومی شاہراہ مکمل طور پر بلاک ہوگئی جس سے شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ گلشن حدید لنک روڈ اور کندھ کوٹ گولا موڑ انڈس ہائی وے پر بھی دھرنا جاری رہا، جس کے باعث گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: کینالز پر بلاول بھٹو کے مؤقف کی حمایت، فیصل واوڈا نے اہم بیان دے دیا
سندھ کے وکلا سے اظہار یکجہتی کے طور پر بلوچستان بار کونسل نے کل عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ 26ویں آئینی ترمیم اور کینالز نکالنے کے خلاف ریلی بھی نکالی جائے گی۔





