خیبرپختونخوا میں 40 ارب روپے کی مالی بدعنوانی کا انکشاف، ملکی تاریخ کا بڑا مالیاتی اسکینڈل بے نقاب ہوگیا ۔
تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخوا کے سرکاری بینک اکاؤنٹس سے 40 ارب روپے سے زائد کی مبینہ خوردبرد اور مالی بدعنوانی کا سنسنی خیز انکشاف سامنے آیا ہے، جسے پاکستان کی تاریخ کے بڑے مالیاتی اسکینڈلز میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔اسکینڈل کا سراغ اپر کوہستان میں ترقیاتی منصوبوں کے فنڈز میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں سے ملا، جہاں قومی احتساب بیورو (نیب) کی تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ جعلی کمپنیوں، فرضی سیکورٹیز اور جعلی چیکس کے ذریعے سرکاری خزانے سے اربوں روپے نکلوائے گئے۔
ڈمپر ڈرائیور کے اکاؤنٹس میں ساڑھے چار ارب روپے؟
تحقیقات میں سب سے حیران کن انکشاف یہ سامنے آیا کہ ایک ڈمپر ڈرائیور، ممتاز کے بینک اکاؤنٹس میں تقریباً ساڑھے چار ارب روپے موجود تھے۔ یہ رقوم ایک فرضی کنسٹرکشن کمپنی کے نام پر منتقل کی گئی تھیں، جسے ڈرائیور نے خود قائم کر رکھا تھا۔ مجموعی طور پر اس کے اکاؤنٹس میں تقریباً سات ارب روپے کی مشکوک ٹرانزیکشنز کی نشاندہی ہوئی، جس پر فوری طور پر نیب نے اکاؤنٹس منجمد کر دیے۔
50 اکاؤنٹس منجمد، 30 افراد کو نوٹس، اعلیٰ شخصیات شامل؟
نیب نے اب تک تقریباً 50 مشتبہ بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے ہیں، جبکہ پولیس کے ذریعے 30 افراد کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ تحقیقات کے دائرہ کار میں سرکاری بینک کے 14 افسران، ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفیسر (DAO)، کمیونیکیشن اینڈ ورکس (C&W) ڈیپارٹمنٹ، اکاؤنٹنٹ جنرل آفس اور آڈٹ ڈائریکٹوریٹ کے اہلکار شامل ہیں۔ شواہد بااثر سیاسی اور اعلیٰ سرکاری شخصیات کی ممکنہ شمولیت کی بھی نشاندہی کر رہے ہیں۔
جدید اور منظم مالیاتی فراڈ کا انوکھا ماڈل
ابتدائی تحقیقات کے مطابق 2020 سے 2024 کے درمیان اپر کوہستان کے ترقیاتی فنڈز کے نام پر 40 ارب روپے نکلوائے گئے، حالانکہ ضلع کا سالانہ بجٹ 50 کروڑ سے ڈیڑھ ارب روپے کے درمیان ہوتا ہے۔ یہ مالی فراڈ جدید اور کئی پرتوں پر مشتمل ہے، جس میں جعلی بلز، فرضی سیکورٹیز، ترقیاتی منصوبوں کی جعلی تفصیلات، اور ریکارڈ میں ردو بدل شامل ہے۔
خزانے پر حملہ: DAO اور بینک افسران کی ملی بھگت
تفصیلات کے مطابق DAO نے جنرل فنانشل رولز اور ٹریژری ضوابط کو نظر انداز کرتے ہوئے غیر مجاز ادائیگیاں منظور کیں۔ داسو اپر کوہستان برانچ کے سرکاری بینک افسران نے اسٹیٹ بینک کے ضوابط اور اینٹی منی لانڈرنگ قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی۔ متعدد منصوبے جو زمین پر موجود ہی نہیں، ان کے بلز تیار کیے گئے اور سرکاری فنڈز نجی اکاؤنٹس میں منتقل کیے گئے۔
احتسابی نظام پر سوالات، مزید انکشافات متوقع
اس اسکینڈل نے نہ صرف خیبرپختونخوا کے مالیاتی نظام کی خامیاں بے نقاب کی ہیں بلکہ اکاؤنٹنٹ جنرل، آڈٹ ڈائریکٹوریٹ اور دیگر نگران اداروں کی ناکامی کو بھی آشکار کیا ہے۔ نیب خیبرپختونخوا کی ٹیم نے کئی دن داسو میں گزار کر ریکارڈ اپنے قبضے میں لے لیا ہے اور معاملے کو ابتدائی انکوائری سے باقاعدہ تحقیقات میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
موقف: کنٹریکٹرز نے الزامات مسترد کر دیے
دوسری جانب، بعض کنٹریکٹرز اور اکاؤنٹ ہولڈرز نے فراڈ اور خوردبرد کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے تمام لین دین قانونی ہیں اور وہ حکومتی ٹھیکوں کے بدلے رقم وصول کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نیب کو ممکنہ طور پر معلوماتی غلط فہمی ہوئی ہے۔





