وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ معدنیات بل پر مفروضوں کی سیاست بند کی جائے، صوبائی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیںکیا جائیگا۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے واضح کیا ہے کہ مجوزہ معدنیات بل میں کسی بھی ادارے یا فریق کو صوبائی اختیارات دینے کی کوئی شق شامل نہیں، سوشل میڈیا پر چلنے والے مفروضے حقیقت کے برعکس ہیں۔اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ معدنیات بل پر بے بنیاد پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، حالانکہ بل میں واضح طور پر درج ہے کہ نہ تو وفاقی حکومت اور نہ ہی خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کو کسی قسم کا اختیار دیا جا رہا ہے۔
علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ جو افراد اعتراض کر رہے ہیں، انہیں چاہیے کہ خود بل کا مطالعہ کریں، اگر سمجھ نہ آئے تو کسی قانونی ماہر سے رجوع کریں۔ انہوں نے کہا کہ بغیر مطالعے کے بیانیہ گھڑنا مناسب طرزِ سیاست نہیں۔
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ موجودہ نظام کے تحت بھی مائنز اینڈ منرلز کے شعبے میں ریونیو میں 3.5 ارب روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو بل میں ضروری ترامیم کی جائیں گی، مگر صوبائی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے تمام حلقوں سے اپیل کی کہ وہ مفروضوں کے بجائے حقائق کی بنیاد پر رائے قائم کریں تاکہ صوبے کے مفادات کو غیر ضروری سیاسی تنازعات سے محفوظ رکھا جا سکے۔





