چین نے خلائی تحقیق میں ایک نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے پہلی بار دن کی روشنی میں زمین سے چاند کے مدار میں موجود سیٹلائٹ پر لیزر کی شعاع کامیابی سے بھیجنے کا سنگ میل عبور کرلیا۔
یہ پیشرفت چین کی ”ڈیپ اسپیس ایکسپلوریشن لیبارٹری“ (DSEL) نے 26 اور 27 اپریل کو ”ٹیانڈو-1“ سیٹلائٹ کے ذریعے مکمل کی جو ایک غیر معمولی کامیابی سمجھی جارہی ہے۔
اب تک سورج کی شدید روشنی کی وجہ سے زمین سے چاند پر لیزر فائر صرف رات کے وقت ہی ممکن تھاکیونکہ سورج کی روشنی لیزر سگنلز میں خلل ڈالتی تھی ۔ اس تجربے نے اس تکنیکی رکاوٹ کو عبور کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ مستقبل میں چاند کے ساتھ مستقل رابطہ اور نیویگیشن ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اسحاق ڈار کے یونان و سوئس وزرائے خارجہ سے رابطے، پاک بھارت کشیدگی پر تبادلہ خیال
ڈی ایس ای ایل کے ماہرین نے اس تجربے میں لیزر کی درستگی کو ”چھ میل دور سے ایک بال کو نشانہ بنانے“ کے مترادف قرار دیا۔





