جذبۂ ایمان کی عظیم مثال، یورپ سے گھوڑوں پر سوار ہو کر 4 مسلمان حج کیلئے پہنچ گئے

جذبۂ ایمان کی عظیم مثال، یورپ سے گھوڑوں پر سوار ہو کر 4 مسلمان حج کیلئے پہنچ گئے

یہ منفرد اور تاریخی سفر دنیا کو ایک بار پھر یہ پیغام دے گیا کہ جب نیت خالص ہو، تو فاصلہ، تھکن اور دشواریاں راہِ حق میں رکاوٹ نہیں بنتیں۔

تفصیلات کے مطابق یورپ سے حج کے مقدس سفر پر روانہ ہونے والے چار مسلمانوں نے اپنی غیر معمولی عقیدت اور استقامت سے دنیا بھر کے مسلمانوں کے دل جیت لیے۔ تین ہسپانوی شہریوں اور ایک مراکشی حاجی پر مشتمل یہ قافلہ کئی ہفتوں کے طویل، صبر آزما اور گرد آلود سفر کے بعد سعودی عرب کی الحدیثہ سرحدی گزرگاہ پر گھوڑوں پر سوار ہو کر پہنچا، جہاں ان کا گرمجوشی اور محبت سے استقبال کیا گیا۔

سعودی عرب کے شمالی علاقے القرائط میں واقع الحدیثہ کے مقام پر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ مقامی رضاکاروں اور حکام نے تھکے ماندے سواروں کو تالیوں، خوشبوؤں، دعاؤں اور نذرانوں سے خوش آمدید کہا۔

الحدیثہ مرکز کے ڈائریکٹر ممدوح المطیری نے ان حاجیوں کا ذاتی طور پر استقبال کرتے ہوئے ان کے جذبے کو ’’ایمان اور اخلاص کی طاقتور علامت‘‘قرار دیا۔ انہوں نے کہا، ’’یہ حیران کن سفر اس روحانی جذبے کی عکاسی کرتا ہے جو دنیا بھر کے حجاج کو ہر مشکل کے باوجود خانہ کعبہ کی طرف کھینچ لاتا ہے۔ ہم ان کے لیے حج مبرور اور سلامتی کے سفر کی دعا کرتے ہیں۔

سعودی بارڈر حکام نے فوری طور پر طبی ٹیموں اور معاون عملے کی مدد سے ان کا معائنہ کیا، تازگی بخشنے والی اشیاء اور حج سے متعلق رہنمائی فراہم کی۔ یہ تمام انتظامات حکومت کے اُس وسیع منصوبے کا حصہ ہیں جس کا مقصد ہر حاجی کو باوقار، محفوظ اور سہولت سے بھرپور داخلہ فراہم کرنا ہے۔

اس موقع پر الحدیثہ کی مقامی ڈیولپمنٹ ایسوسی ایشن کی جانب سے ایک مختصر مگر پُر خلوص تقریب بھی منعقد کی گئی، جس میں حاجیوں کو تحائف، پھول اور روایتی عربی خوش آمدید کے انداز میں رخصت کیا گیا۔

القرائط اور الحدیثہ کی تمام انتظامیہ حج کے قومی منصوبے کے تحت پوری طرح متحرک ہے تاکہ دنیا بھر سے آنے والے زائرین کے لیے ایک محفوظ، سہل اور روح پرور حج کا سفر یقینی بنایا جا سکے۔

Scroll to Top