امریکہ کے بعد اب برطانیہ نے بھی پاک بھارت کشیدہ حالات کے پیش نظر اپنے شہریوں کو پاکستان اور بھارت کا سفر نہ کرنے کی ہدایت جاری کر دی ۔
تفصیلات کے مطابق امریکہ کے بعد اب برطانیہ نے بھی پاک بھارت کشیدہ حالات کے پیش نظر اپنے شہریوں کو پاکستان اور بھارت کا سفر نہ کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ برطانوی حکومت نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ موجودہ سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر دونوں ممالک، خصوصاً سرحدی علاقوں کا سفر ملتوی کر دیں۔
پہلگام واقعے کے بعد بھارت کی جانب سے بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر الزامات عائد کیے گئے، جس سے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہوا۔ اسی پس منظر میں برطانیہ نے نئی سفری ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے اپنے شہریوں کو پاکستان اور بھارت کے درمیان سرحدی علاقوں، خصوصاً لائن آف کنٹرول (ایل او سی) اور دیگر حساس مقامات سے دور رہنے کی تاکید کی ہے۔
برطانوی دفتر خارجہ کے مطابق، پاک بھارت سرحدی علاقے ممکنہ سکیورٹی خدشات کی وجہ سے خطرناک ہو سکتے ہیں اور شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ان علاقوں کا سفر اس وقت تک مؤخر کر دیں جب تک حالات معمول پر نہ آ جائیں۔
ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان واحد فعال سرکاری سرحدی راستہ پنجاب میں واقع واگہ-اٹاری بارڈر ہے، جہاں دونوں اطراف بھاری فوجی موجودگی دیکھی جاتی ہے۔ برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی ممکنہ کشیدگی کی صورت میں صورتِ حال فوری طور پر خراب ہو سکتی ہے، اس لیے احتیاط برتنا ضروری ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی محکمہ خارجہ بھی بھارت اور پاکستان کے لیے سفری ہدایات جاری کر چکا ہے۔ امریکی ایڈوائزری میں دہشت گردی، جرائم، اور دیگر سیکیورٹی خطرات کے باعث امریکی شہریوں کو محتاط رہنے اور غیر ضروری سفر سے اجتناب کی تلقین کی گئی تھی۔
امریکی رپورٹ میں بھارتی ریاست منی پور میں جاری تشدد، جرائم اور بھارت میں ریپ کے بڑھتے ہوئے واقعات کو بھی نمایاں طور پر ذکر کیا گیا، جس نے بین الاقوامی سطح پر بھارت کی داخلی سیکیورٹی صورتحال پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
برطانیہ اور امریکہ دونوں کی جانب سے جاری کی گئی یہ ایڈوائزریز اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ خطے میں پائی جانے والی کشیدگی عالمی برادری کی نظروں میں ایک سنجیدہ خطرہ بنتی جا رہی ہے، اور غیر ملکی حکومتیں اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کر رہی ہیں۔





