پاک بھارت تناؤ کا اثر ہوائی سفر پر، کئی عالمی ایئرلائنز نے پاکستانی حدود سے گریز شروع کر دیا

پاک بھارت تناؤ کا اثر ہوائی سفر پر، کئی عالمی ایئرلائنز نے پاکستانی حدود سے گریز شروع کر دیا

پاک بھارت کشیدگی کا ہوائی سفر پر اثر،عالمی ایئر لائنز نے پاکستانی فضائی حدود سے گریز شروع کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق پہلگام حملے کے بعد پیدا ہونے والی پاک بھارت کشیدگی نے بین الاقوامی ہوائی سفر پر بھی اثر ڈالنا شروع کر دیا ہے، جس کے باعث دنیا کی کئی بڑی ایئر لائنز نے پاکستانی فضائی حدود کے استعمال سے گریز کا فیصلہ کیا ہے۔ لفتھانزا، امارات، سوئس ایئر، برٹش ایئرویز، اور ایئر فرانس جیسی معروف بین الاقوامی ایئر لائنز نے پاکستانی فضائی حدود سے پروازیں گزارنے کا عمل عارضی طور پر روک دیا ہے۔ یہ فیصلہ 22 اپریل 2025 کو پہلگام میں ہونے والے حملے کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں کیا گیا ہے۔

لفتھانزا ایئرلائن نے تصدیق کی ہے کہ وہ اگلے اعلان تک پاکستان کی فضائی حدود استعمال نہیں کرے گی۔ یہ قدم دیگر بڑی ایئرلائنز کے ساتھ ہم آہنگی میں اُٹھایا گیا ہے تاکہ فضائی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ نتیجتاً، ان پروازوں کا دورانیہ طویل ہو گیا ہے اور ایندھن کے اخراجات میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

برٹش ایئرویز کی لندن سے دہلی کی پرواز بی اے 142 کا دورانیہ پاکستانی حدود سے گریز کے باعث ایک گھنٹہ طویل ہو گیا ہے، جبکہ لفتھانزا کی فرینکفرٹ سے نئی دہلی کی پرواز ایل ایچ 760 کو بھی تقریباً ایک گھنٹے کی اضافی پرواز کرنا پڑ رہی ہے۔ امارات کی دبئی سے دہلی اور ممبئی کی پروازوں کا دورانیہ بھی نصف گھنٹے سے زائد بڑھ گیا ہے۔

یہ فضائی تبدیلیاں دونوں ممالک کے درمیان جاری سفارتی اور سیکیورٹی کشیدگی کا تسلسل ہیں۔ بھارت نے پہلے ہی پاکستانی ایئر لائنز پر اپنی فضائی حدود بند کر رکھی ہے جبکہ پاکستان نے بھی بھارتی پروازوں پر پابندیاں عائد کی ہوئی ہیں۔ تاہم، پاکستان نے تاحال بین الاقوامی ایئرلائنز کے لیے اپنی فضائی حدود کھلی رکھی ہے، لیکن متعدد ایئرلائنز نے خود رضاکارانہ طور پر اس راستے سے گریز کرنے کا انتخاب کیا ہے۔

دوسری جانب، برٹش ایئرویز کی اسلام آباد کے لیے پروازیں، جیسے بی اے 2161 اور بی اے 2160، معمول کے مطابق آپریٹ کی جا رہی ہیں، جو کہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان ہوائی روابط کی جزوی بحالی کی علامت ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ کشیدگی برقرار رہی تو بین الاقوامی فضائی آپریشنز پر اس کے اثرات مزید گہرے ہو سکتے ہیں، جس کا اثر نہ صرف پرواز کے وقت پر ہوگا بلکہ مسافروں کے اخراجات اور سفری سہولت پر بھی پڑے گا۔

Scroll to Top