مختلف شہروں پربھارتی ڈرون حملوں سے عمران خان کی جان کو جیل میں خطرہ ہے، پیرول پر رہائی کی درخواست دائر

مختلف شہروں پربھارتی ڈرون حملوں سے عمران خان کی جان کو جیل میں خطرہ ہے، پیرول پر رہائی کی درخواست دائر

درخواست میں موقف اختیار کیاگیا ہے کہ پاکستان کو بھارتی حکومت کی جانب سے جارحیت کا سامنا ہے اور مختلف شہروں پر ڈرون حملوں کے نتیجے میں عمران خان کی جان کو جیل میں خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی پیرول پر رہائی کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی ہے۔ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے یہ درخواست ہائیکورٹ میں جمع کرائی، جس میں سیکرٹری داخلہ، ہوم سیکرٹری پنجاب، سپرنٹنڈنٹ سینٹرل جیل اڈیالہ اور آئی جی جیل خانہ جات کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پاکستان کو بھارتی حکومت کی جانب سے جارحیت کا سامنا ہے اور مختلف شہروں پر ڈرون حملوں کے نتیجے میں عمران خان کی جان کو جیل میں خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ درخواست کے مطابق بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کے لیے عمران خان ایک اہم ٹارگٹ ہیں، کیونکہ وہ اس وقت وزیراعظم تھے جب مودی کو عالمی سطح پر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ سیکرٹری ہوم ڈیپارٹمنٹ پنجاب کو اس حوالے سے درخواست دی گئی تھی، مگر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ وہ اس معاملے میں فوری طور پر احکامات جاری کرے۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عمران خان نے جیل میں قید کے دوران کسی بھی قسم کے قیدی قوانین کی خلاف ورزی نہیں کی۔ سیاسی طور پر بنائے گئے مقدمات میں ان کی طویل قید سے ان کے بنیادی حقوق متاثر ہو رہے ہیں اور صحت کے مسائل کا بھی خطرہ ہے۔ آئین کے تحت ایسی صورتحال میں پیرول پر رہائی کی گنجائش موجود ہے۔

درخواست کے متن کے مطابق عمران خان نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ پیرول پر رہائی کی شرائط پر مکمل عمل کریں گے، اور ان کی رہائی ملک میں اتحاد کو فروغ دینے کے لیے اہم ہے۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا کہ قومی سلامتی کے اجلاس میں شرکت صرف عمران خان سے ملاقات کے بعد ہی ممکن ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے ہمیشہ بھارتی مظالم کے خلاف آواز بلند کی ہے اور وہ ہمارے قائد ہیں۔ ان سے رہنمائی حاصل کرنے کے لیے ملاقات ضروری ہے۔

یہ درخواست ایک اہم سیاسی اور سیکیورٹی معاملہ بن چکی ہے جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کی کارروائی کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

Scroll to Top