پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے عالمی سطح پر سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق مختلف ممالک، بالخصوص عالمی طاقتیں، دونوں ملکوں کے درمیان جنگی صورتحال سے بچنے کے لیے متحرک ہو چکی ہیں اور پاکستان کی اعلیٰ سیاسی قیادت سے بیک ڈور رابطے جاری ہیں۔
نجی ٹی وی چینلز کے مطابق کئی ممالک کے اعلیٰ حکام وفاقی حکومت سے رابطے میں ہیں اور کوشش کر رہے ہیں کہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کو مذاکرات کے ذریعے کم کیا جائے۔ ان رابطوں میں پاکستان کی جانب سے واضح مؤقف اپنایا گیا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ امن کا پیغام دیا ہے، تاہم ملکی خودمختاری اور دفاع کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا۔
وفاقی حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اب مذاکرات میں ازخود پہل نہیں کرے گا۔ امن کی راہ صرف اسی صورت ممکن ہے جب مودی حکومت خود ڈائیلاگ کی میز پر آئے۔ پاکستان پر کسی بھی قسم کا دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا اور بھارتی جارحیت کا موثر اور بھرپور جواب دینے کا عمل جاری رہے گا۔
ذرائع کے مطابق پاکستان کی جانب سے جوابی کارروائی کے بعد بھارت کو شدید نقصان اٹھانا پڑا ہے، جس کے باعث وہ پسپائی پر مجبور ہے۔ اسی تناظر میں یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مودی حکومت جلد پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کر سکتی ہے۔
وفاقی حکومت ان سفارتی رابطوں کی روشنی میں آئندہ کی حکمت عملی مرتب کر رہی ہے، جس میں دفاع، سفارت اور سیاسی سطح پر ہم آہنگی کو مزید مؤثر بنانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس تمام صورتحال میں پاکستان نے عالمی برادری کو واضح پیغام دے دیا ہے کہ وہ امن چاہتا ہے، لیکن عزت اور خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔





