وفاقی وزیر خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بھارت سے مذاکرات کی صورت میں کشمیر، دہشت گردی اور پانی پر بات ہو گی۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے واضح کیا ہے کہ اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات ہوتے ہیں تو بات چیت تین بنیادی نکات کشمیر، دہشت گردی اور پانی پر مرکوز ہو گی۔
نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے، لیکن کسی بھی مذاکرات کی بنیاد قومی مفاد اور انصاف پر مبنی ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی گزشتہ تین دہائیوں سے جاری ہے اور پاکستان اس کا سب سے بڑا شکار رہا ہے، اس کے باوجود پاکستان پر ہی الزامات عائد کیے جانا ایک بدترین ناانصافی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پاکستان اور بھارت دونوں کے لیے ایک تاریخی اور انسانی مسئلہ ہے، جس کا پائیدار حل خطے میں امن کے قیام کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ’’یہ دونوں ممالک کے لیے ایک سنہری موقع ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کو باہمی مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔‘‘
خواجہ آصف نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ نے بھی اس معاملے کو بین الاقوامی سطح پر اٹھایا اور کہا تھا کہ کشمیر کا مسئلہ بھی مذاکرات کا حصہ ہونا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ امن کا پیغام دیا ہے، مگر قومی وقار اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
’’کتنی بڑی ستم ظریفی ہے کہ دہشت گردی کا شکار ہونے والے ملک کو دہشت گرد کہہ کر نشانہ بنایا جائے۔‘‘
خواجہ آصف کے اس بیان کو سیاسی و سفارتی حلقوں میں اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو ممکنہ طور پر خطے میں کشیدگی میں کمی کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔





