بجٹ منظوری کے بدلے آئی ایم ایف کی 11 نئی شرائط، پاکستان پر مزید معاشی دباؤ
تفصیلات کے مطابق پاکستان کی معیشت کو سہارا دینے کے لیے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے 7 ارب ڈالر قرض کے بدلے 11 نئی شرائط عائد کر دی ہیں، جن میں 17.6 ٹریلین روپے کے نئے بجٹ کی منظوری، بجلی اور گیس کے نرخوں میں ردوبدل، اور تجارتی پالیسیوں میں تبدیلی شامل ہے۔آئی ایم ایف کی جاری کردہ اسٹاف لیول رپورٹ کے مطابق، اگرچہ پاکستان نے دسمبر 2024 تک متعدد کارکردگی کے اہداف پورے کیے، تاہم اصلاحات کے عمل میں سست روی اور علاقائی کشیدگیوں کے باعث پروگرام کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔
اہم شرائط:
17.6 ٹریلین روپے کا بجٹ: بجٹ میں ترقیاتی اخراجات کے لیے 1.07 ٹریلین روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ سود کی ادائیگیوں کے لیے 8.7 ٹریلین روپے تجویز کیے گئے۔
بجلی و گیس ٹیرف میں اضافے کا عندیہ: جولائی 2024 تک بجلی کے نرخوں میں سالانہ ری بیسنگ کی جائے گی، جبکہ فروری 2026 تک گیس ٹیرف میں بھی سالانہ ایڈجسٹمنٹ کی جائے گی۔
ڈیٹ سروس سرچارج میں اضافے کے لیے قانون سازی: پارلیمنٹ کو بجلی کے فی یونٹ اضافی سرچارج کی حد ختم کرنے کا کہا گیا ہے۔
زرعی انکم ٹیکس میں سختی: صوبوں کو جون کے اختتام تک نئے زرعی انکم ٹیکس قوانین لاگو کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد پر پابندیاں ختم کرنے کی شرط: فی الحال تین سال پرانی گاڑیوں کی درآمد کی اجازت ہے، جسے مکمل آزاد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
کیش ٹرانسفر پروگرام کی افراط زر کے مطابق ایڈجسٹمنٹ: غریب طبقے کی قوتِ خرید برقرار رکھنے کے لیے سماجی تحفظ کو مہنگائی کے مطابق اپ ڈیٹ کرنے کی شرط شامل ہے۔
گورننس ایکشن پلان کی اشاعت: سرکاری نظام میں بہتری لانے کے لیے اصلاحات پر مبنی منصوبہ عوام کے سامنے لایا جائے گا۔
علاقائی تناؤ، ممکنہ خطرہ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں اضافہ آئی ایم ایف پروگرام کے مالی و اصلاحاتی اہداف کو متاثر کر سکتا ہے۔ اگرچہ اسٹاک مارکیٹ اب تک مستحکم رہی ہے، تاہم عالمی سطح پر اس تناؤ کے معاشی اثرات کا خطرہ موجود ہے۔
توانائی سیکٹر پر خصوصی توجہ :توانائی کے شعبے میں چار نئی شرائط شامل کی گئی ہیں، جن میں کیپٹو پاور لیوی آرڈیننس کو قانون بنانا، توانائی نرخوں میں شفافیت، اور گردشی قرضے کی روک تھام کے لیے اقدامات شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، توانائی کے شعبے میں پالیسی ناکامیوں اور حکمرانی کے فقدان نے گردشی قرضے کے بحران کو جنم دیا۔
صوبائی حکومتوں پر نئی ذمہ داری اںآئی ایم ایف نے زور دیا ہے کہ صوبے زرعی انکم ٹیکس کی مؤثر وصولی، ٹیکس دہندگان کی رجسٹریشن اور ٹیکس ریٹرنز کی جانچ کے لیے جامع نظام قائم کریں۔ مزید یہ کہ 2035 تک تمام انڈسٹریل زونز کی ٹیکس مراعات کا خاتمہ بھی زیر غور ہے۔
حکومت کا موقف پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ بیشتر اہداف مکمل کر چکے ہیں اور بعض پر عمل درآمد جاری ہے۔ تاہم چند سفارشات، جیسے بینکاری اصلاحات اور سول سرونٹس قوانین میں ترامیم میں تاخیر دیکھی گئی ہے، جس پر کام جاری ہے۔





