پشاور: گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے میں اربوں روپے کی کرپشن سامنے آ رہی ہے، اور موجودہ حکومت علی بابا چالیس چوروں کی مانند کام کر رہی ہے۔
پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مطالبہ کیا کہ خیبر پختونخوا میں فوری طور پر تھرڈ پارٹی آڈٹ کرایا جائے اور کرپشن میں ملوث عناصر کو گرفتار کیا جائے۔
فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ اگر یہی کرپشن کسی اور پارٹی نے کی ہوتی تو اب تک گرفتاریاں ہو چکی ہوتیں۔ ان کے مطابق، پی ٹی آئی حکومت کی کرپشن کے سہولت کار اسلام آباد میں بیٹھے ہیں اور گزشتہ 12 سال کا صوبائی بجٹ کرپشن کی نذر ہو چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر گورنر کو اختیارات حاصل ہوتے تو وہ اب تک بدعنوان افراد کو الٹا لٹکا چکے ہوتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگ دوسروں کو پکوڑے اور سموسے بیچنے کا طعنہ دیتے ہیں، وہ خود کرپشن میں ملوث ہیں۔
فاٹا انضمام کے حوالے سے بات کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ ریاست نے وعدہ کیا تھا کہ ضم شدہ اضلاع پر سالانہ 100 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے، مگر اب تک صرف 6 سے 7 ارب روپے دیے گئے ہیں۔
اس سے قبل ایک تقریب سے خطاب میں فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ملک میں نئے شہر آباد ہونے چاہئیں اور خیبر پختونخوا میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں ہمارے شاہینوں کے جواب نے دشمن کو جنگ بند کرنے پر مجبور کیا، گورنر خیبرپختونخوا
ان کا کہنا تھا کہ پشاور میں زمین ختم ہو چکی ہے، لہٰذا ہائی رائزنگ فلیٹس بننے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں امن و امان قائم کرکے سیاحت سمیت دیگر شعبوں میں ترقی ممکن ہے، اور سرمایہ کاروں کو ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔





