اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے انکشاف کیا ہے کہ سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ نے اس وقت کے آرمی چیف کی تقرری کے معاملے پر 4 سے 5 متبادل آپشنز تجویز کیے تھے اور کہا تھا کہ جنرل عاصم منیر کو آرمی چیف نہ بنایا جائے۔
ہم نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ جنرل عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کا عہدہ دینا ایک تاریخ ساز قدم ہے جو اُن کی بے مثال خدمات کے اعتراف میں دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر قوم کے محسن ہیں اور زندہ قومیں اپنے محسنوں کو عزت دیتی ہیں۔
وزیر دفاع نے مزید انکشاف کیا کہ آرمی چیف کی تقرری کے وقت جنرل باجوہ اور بانی چیئرمین پی ٹی آئی دونوں اس تقرری کو روکنے کی کوششوں میں شریک تھے۔ ان کے مطابق آپ کے ہوش اُڑ جائیں گے جو کچھ جنرل باجوہ نے کہا، مجھے وہ باتیں سن کر شرم آئی۔ انہوں نے بتایا کہ ایک شخص کو بار بار لندن بھیجا گیا جو خود بھی وزارتِ عظمیٰ کا اُمیدوار تھا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ یہ تمام باتیں ان کی براہِ راست گفتگو پر مبنی ہیں، نہ کہ کسی سنی سنائی کہانی پر۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ جنرل باجوہ خود ایکسٹینشن کے خواہش مند تھے اور آئندہ وہ ایک کتاب لکھیں گے جس میں تمام انکشافات شامل ہوں گے۔
پاک فضائیہ کی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دشمن کے بڑے بڑے طیارے کٹی پتنگوں کی طرح گرے، اور بھارت جو اپنی فضائی طاقت پر غرور کرتا تھا، ہماری کارروائیوں کے بعد خاموش ہو گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سیزفائر میں امریکا، برطانیہ، ایران اور سعودی عرب سمیت کئی ممالک نے کردار ادا کیا۔
یہ بھی پڑھیں : تمام سیاست دانوں کو بیٹھ کر مسائل کا حل نکالنا ہوگا، مصطفیٰ نواز کھوکھر
اپوزیشن کی جانب سے دیے گئے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ علی امین گنڈاپور کی جانب سے اگر پرول کی اپیل دی گئی ہے تو یقیناً کسی کی مشاورت سے دی گئی ہوگی، اور ان کے اسٹیبلشمنٹ سے رابطوں کی خبریں بھی گردش کر رہی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بانی چیئرمین پی ٹی آئی کو 9 مئی کے واقعات پر اعترافِ گناہ کرنا چاہیے۔





