وکیل رانا مدثرنے کہا ہے کہ جب رپورٹس ابھی آئی ہی نہیں ہیں تو مریض کو ڈسچارج کرنے کا فیصلہ کس بنیاد پر کیا گیا؟ یہ قریشی کی صحت کیساتھ سنگین کھلواڑ ہو سکتا ہے۔‘‘
تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو دل کی تکلیف کے باعث کوٹ لکھپت جیل سے ہسپتال منتقل کیا گیا تھا، تاہم اب انہیں طبی معائنے کے بعد ڈاکٹروں کی جانب سے ڈسچارج کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس پر ان کے اہل خانہ اور وکلاء نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
شاہ محمود قریشی کے وکیل رانا مدثر کے مطابق، قریشی کا بلڈ پریشر اور دل کی دھڑکن (ہارٹ ریٹ) تاحال معمول سے زیادہ ہے، جبکہ ان کے متعدد طبی ٹیسٹ گزشتہ روز کیے گئے تھے، جن کی رپورٹس ابھی تک موصول نہیں ہوئیں۔
رانا مدثر نے سوال اٹھایا:جب رپورٹس ابھی آئی ہی نہیں ہیں تو مریض کو ڈسچارج کرنے کا فیصلہ کس بنیاد پر کیا گیا؟ یہ قریشی صاحب کی صحت کے ساتھ سنگین کھلواڑ ہو سکتا ہے۔‘‘
شاہ محمود قریشی کے اہل خانہ کی جانب سے بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ طبی ماہرین کی مکمل رائے اور رپورٹس کے بغیر ان کی ہسپتال سے واپسی کا فیصلہ غیر ذمہ دارانہ ہے اور ان کی جان کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
خاندانی ذرائع کے مطابق، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاہ محمود قریشی کو قبل از وقت واپس جیل منتقل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو ان کی موجودہ جسمانی کیفیت کے پیش نظر انتہائی غیر مناسب اور تشویشناک اقدام ہے۔
میڈیکل ذرائع کے مطابق قریشی کی صحت پر مکمل رائے دینے سے قبل تمام رپورٹس اور ٹیسٹ نتائج کا دستیاب ہونا ناگزیر ہے۔ ایسی صورتحال میں کسی بھی جلد بازی سے مریض کی حالت مزید بگڑ سکتی ہے۔





