پشاور: عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کی رہنما اور سابق رکن صوبائی اسمبلی شگفتہ ملک نے خیبرپختونخوا حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے کے ہر محکمے میں گذشتہ 12 سال سے کرپشن جاری ہے اور اب خود تحریک انصاف کے کارکنان بھی یہ تسلیم کر چکے ہیں کہ حکومت اور وزراء کس کے اشاروں پر چل رہے ہیں۔
پختون ڈیجیٹل پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے حالیہ احتجاج کے دوران پولیس کی جانب سے شیلنگ کی گئی، جس کے باعث کئی نوجوان، خواتین اور بزرگ افراد بے ہوش ہوئے۔ اُن کے مطابق اس وقت صوبے کا ہر طبقہ سراپا احتجاج ہے، لیکن حکومت مظاہرین کو شیلنگ اور تشدد سے خاموش کروانا چاہتی ہے، جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
شگفتہ ملک کا کہنا تھا کہ ایک طرف خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی اپنی حکومت ہے اور دوسری طرف وہی جماعت اسی صوبے میں احتجاج کرتی ہے، لیکن جب دیگر سیاسی جماعتیں احتجاج کا حق استعمال کرتی ہیں تو ان پر کریک ڈاؤن کیا جاتا ہے، حتیٰ کہ خواتین پر بھی تشدد کیا جاتا ہے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سیاسی اختلافات کو دبانے کے بجائے عوام کے مسائل حل کیے جائیں اور تمام جماعتوں کو آئینی حق کے مطابق احتجاج کرنے کی آزادی دی جائے۔
یہ بھی پڑھیں : دفاعی معاہدوں کی کرپشن کا راز فاش، بھارتی ایئر چیف کے تہلکہ خیز انکشافات
شگفتہ ملک کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں سیاسی ماحول کشیدہ ہوتا جا رہا ہے اور مختلف حلقوں کی جانب سے بدعنوانی، مہنگائی اور انتظامی بدحالی کے خلاف آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔





