پشاور: سابق صوبائی وزیر تعلیم سردار حسین بابک نے کہا ہے کہ اگر بجٹ واقعی عوام کے لیے تیار کیا جاتا ہے تو اس سے قبل عوامی سطح پر سیمینارز اور مشاورت ہونی چاہیے اور بجٹ کی تفصیلات کھلے عام عوام کے ساتھ شیئر کی جانی چاہییں۔
پختون ڈیجیٹل پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے سردار حسین بابک نے کہا کہ 2025ء مالی سال این ایف سی ایوارڈ کے اجرا کا سال ہے، تاہم 2010ء کے بعد سے اب تک نیا این ایف سی ایوارڈ جاری نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ بجٹ سے قبل این ایف سی ایوارڈ کا اجرا ضروری تھا لیکن بدقسمتی سے اس اہم قومی معاملے پر صوبائی حکومت بھی مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔
تعلیم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے تشویش کا اظہار کیا کہ جون کا مہینہ شروع ہوچکا ہے لیکن اب تک صوبے کے سرکاری اسکولوں میں طلبہ کو درسی کتابیں فراہم نہیں کی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا کا بجٹ 13 جون کو پیش کیا جائے گا،اعلامیہ جاری
انہوں نے کہا کہ حکومت کی اس معاملے میں کوئی سنجیدگی دکھائی نہیں دیتی، جو ظاہر کرتا ہے کہ ان کی ترجیحات میں تعلیم کا شعبہ شامل ہی نہیں۔
سردار حسین بابک نے کہا کہ بچوں کے مستقبل سے اس طرح کی غفلت نہ صرف ناقابلِ معافی ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے ساتھ ظلم کے مترادف ہے۔





