بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو بالآخر کینیڈا میں ہونے والے جی 7 سربراہی اجلاس کے لیے دعوت نامہ موصول ہو گیا ہے۔ اس بات کا اعلان خود مودی نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ (سابقہ ٹوئٹر) پر کیا۔
تاہم مبصرین کے مطابق یہ دعوت اجلاس سے صرف 9 روز قبل موصول ہوئی، جسے ایک ’تاخیری دعوت‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس تاخیر کو کئی تجزیہ کاروں نے سفارتی شرمندگی سے تعبیر کیا ہے، کیونکہ اس سے قبل بھارت کی عدم شمولیت پر دنیا بھر میں سوالات اٹھائے گئے تھے۔
عالمی تنقید اور سفارتی دباؤ
بھارت کو جی 7 اجلاس میں شرکت کی باضابطہ دعوت نہ دیے جانے پر بین الاقوامی میڈیا، سفارتی حلقوں اور تجزیہ کاروں نے اسے بھارت کے لیے ایک سنگین سفارتی دھچکا قرار دیا تھا۔ یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب بھارت اور کینیڈا کے تعلقات میں شدید کشیدگی جاری ہے۔
بھارت-کینیڈا کشیدگی کی پس منظر
یہ کشیدگی جون 2023 میں اس وقت شروع ہوئی جب کینیڈین نژاد سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کا الزام بھارت پر عائد کیا گیا۔ ستمبر 2023 میں اُس وقت کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے باقاعدہ طور پر بھارت پر قتل میں ملوث ہونے کا الزام لگایا اور ایک بھارتی سفارتکار کو ملک بدر کر دیا۔
اس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں مزید تلخی پیدا ہوئی، یہاں تک کہ جنوری 2025 میں کینیڈا نے ایک بار پھر بھارت پر اپنے انتخابات میں مداخلت کا الزام عائد کیا۔
امریکا اور مغربی دنیا کا ردعمل
امریکا سمیت مغربی اتحادیوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ ان الزامات کو سنجیدگی سے لے اور کینیڈا سے تعلقات بہتر بنانے کے لیے اقدامات کرے۔ ایسے میں مودی کو جی 7 میں شرکت کی دعوت دینا بظاہر ایک سفارتی توازن قائم رکھنے کی کوشش نظر آتی ہے۔
جی 7 اجلاس کب اور کہاں؟
جی 7 سربراہی اجلاس 15 سے 17 جون 2025 تک کینیڈا کے صوبے البرٹا میں منعقد ہو گا، جس میں دنیا کی سات بڑی معیشتوں کے سربراہان شرکت کریں گے۔ اجلاس میں عالمی معیشت، موسمیاتی تبدیلی، جیو پولیٹکس، اور بین الاقوامی امن جیسے موضوعات پر گفتگو ہو گی۔
دعوت کی نوعیت: رسمی یا تعلقات کی بہتری؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی کو موصول ہونے والی دعوت کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے:کیا یہ دعوت دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری کی علامت ہے، یا محض رسمی سفارتی تقاضہ؟ اس سوال کا جواب شاید جی 7 اجلاس کے بعد مزید واضح ہو سکے۔





