حکومت آئندہ بجٹ میں 3 اور 5 مرلہ کے گھروں کے لیے شرحِ سود پر سبسڈی اور 10 سے 12 سالہ آسان اقساط پر مبنی سستا رہائشی پیکج متعارف کرانے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس منصوبے کا مقصد ملک میں موجود تقریباً 14 ملین رہائشی یونٹس کی کمی کو کم کرنا اور عام شہری کو گھر کی سہولت فراہم کرنا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم آفس بھی اس سکیم کا دائرہ کار 10 مرلہ کے گھروں تک بڑھانے پر غور کر رہا ہے، تاکہ وہ شہری جو پہلی بار اپنا ذاتی گھر بنانا چاہتے ہیں، انہیں بھی فائدہ دیا جا سکے۔ تاہم اس حوالے سے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ممکنہ شرائط اور اعتراضات بھی زیر غور ہیں۔
حکام کے مطابق 3 اور 5 مرلہ گھروں کی سبسڈی کا سالانہ بوجھ 50 سے 70 ارب روپے تک ہو سکتا ہے، جبکہ 10 مرلہ گھروں کی شمولیت کی صورت میں یہ اخراجات مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب مارگیج فنانسنگ کے شعبے کو درپیش قانونی اور مالیاتی چیلنجز بھی حکومت کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ بینکنگ سیکٹر نے رہائشی قرضوں کی اقساط کی عدالتی اسٹے آرڈرز کی وجہ سے عدم وصولی کا مسئلہ اٹھایا ہے، جس پر قانونی اصلاحات کی گئیں تاہم مزید اقدامات کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔
حالیہ مشاورتی اجلاسوں میں تقریباً تمام کمرشل بینکوں نے نشاندہی کی کہ بقایا جات کی وصولی میں قانونی پیچیدگیاں بڑی رکاوٹ ہیں، جس کے باعث ہاؤسنگ سیکٹر کو بڑے پیمانے پر فروغ دینا مشکل ہو رہا ہے۔ اس ضمن میں وزارت قانون سے مشاورت کا عمل بھی جاری ہے تاکہ ایک قابلِ عمل اور پائیدار نظام وضع کیا جا سکے۔
تازہ ترین مردم شماری کے مطابق ملک میں تقریباً 30 ملین کچے یا پکے رہائشی یونٹس موجود ہیں، تاہم معیاری رہائش کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے اصل کمی کا تعین اب بھی ایک چیلنج ہے۔





