بیرسٹر سیف نے کہا ہے کہ کسان دشمن پالیسیوں سے زرعی شعبہ تباہ، گندم کے کاشتکاروں کو 2200 ارب روپے کا نقصان ہوا
تفصیلات کے مطابق مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے وفاقی اور پنجاب حکومت کی کسان دشمن پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ آج بھی کسان دشمن بااثر افراد وفاق اور پنجاب کے اہم عہدوں پر قابض ہیں، جنہوں نے ملکی زرعی معیشت کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔
اپنے بیان میں بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ کسان اتحاد نے وفاقی حکومت اور بالخصوص پنجاب میں ترقی کے جھوٹے دعوئوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ صرف گزشتہ ایک سال میں گندم کے کاشتکاروں کو 2200 ارب روپے کا نقصان ہوا، جب کہ جعلی حکومت کی ناقص پالیسیوں کی بدولت زرعی پیداوار میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔
مشیر اطلاعات کے مطابق گندم کی پیداوار میں 8.91 فیصد، کپاس کی پیداوار میں 34 فیصد، جب کہ مکئی کی پیداوار میں 15.4 فیصد کمی ہوئی ہے۔ رواں مالی سال کے پہلے 10 ماہ میں فوڈ امپورٹ بل 7 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے، جو زرعی خودکفالت کے خواب پر ایک سوالیہ نشان ہے۔
بیرسٹر سیف نے کہا کہ زراعت ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، مگر موجودہ حکمران اس ریڑھ کی ہڈی کو کمزور کر کے ترقی کے کھوکھلے نعرے لگا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں کسان بدحال ہیں، لیکن وزیراعلیٰ مریم نواز کی حکومت نے مکمل چشم پوشی اختیار کی ہوئی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ برس وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے پنجاب کے کسانوں کے لیے بروقت گندم خرید کر اُن کے زخموں پر مرہم رکھا، اگر وہ قدم نہ اٹھایا جاتا تو آج پیداوار کا بحران مزید سنگین ہوتا۔





