پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے وفاقی بجٹ کے خلاف حکومت کو سخت ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ بجٹ اجلاس سے قبل پی ٹی آئی نے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپنی پارلیمانی کمیٹیوں کا مشترکہ اجلاس آج سہ پہر 3 بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں طلب کر لیا ہے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق اجلاس میں بجٹ کے موقع پر پارلیمنٹ کے اندر اور باہر احتجاج کی حکمت عملی طے کی جائے گی، اور آج پیش ہونے والے بجٹ پر اپوزیشن کے ردعمل کو مربوط اور مؤثر بنانے پر غور کیا جائے گا۔ تمام ارکانِ قومی اسمبلی اور سینیٹرز کو پارلیمنٹ ہاؤس بروقت پہنچنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔
پی ٹی آئی کے رہنما بیرسٹر گوہر علی خان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ حکومت کا پیش کردہ بجٹ عوام دشمن اور معاشی حقائق سے کٹا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم بجٹ کے خلاف بھرپور احتجاج ریکارڈ کرائیں گے، کیونکہ اس میں نہ مہنگائی پر قابو پانے کی کوئی مؤثر منصوبہ بندی ہے، نہ کفایت شعاری کا کوئی روڈ میپ، اور نہ ہی معیشت کو سنبھالنے کے لیے کسی قسم کی اصلاحات شامل کی گئی ہیں۔‘‘
پارٹی قیادت کا کہنا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی دباؤ سے نجات دلانے کے بجائے حکومت نے آئی ایم ایف کی خوشنودی کے لیے بجٹ پیش کیا ہے، جس کے خلاف پی ٹی آئی مؤثر مزاحمت کرے گی۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں ممکنہ طور پر ایوان میں سخت احتجاج، واک آؤٹ یا علامتی دھرنے جیسے اقدامات پر بھی غور کیا جائے گا۔





