خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف نے نئے مالی سال کے بجٹ کو عوام دشمن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگا، جس سے مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا۔
اپنے ایک بیان میں بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے بجٹ میں پیٹرولیم مصنوعات پر نیا ٹیکس عائد کر دیا ہے، جو براہ راست عام آدمی پر مہنگائی کا بوجھ ڈالے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا اثر اشیائے خورونوش سمیت تمام اشیاء پر پڑے گا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ وفاقی بجٹ امیر دوست اور غریب دشمن ہے، جس میں عوامی ریلیف کے بجائے بوجھ میں اضافہ کیا گیا ہے۔ بیرسٹر سیف نے پنجاب حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کے بجٹ میں زرعی شعبے کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے، حالانکہ کسان پہلے ہی شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ غلط معاشی پالیسیوں کی بدولت پنجاب کے کسانوں کو 2200 ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑا، لیکن اس کے باوجود متاثرہ کسانوں کے لیے بجٹ میں کوئی ریلیف نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے صرف کمیشن والے منصوبوں کو ترجیح دی ہے۔
بیرسٹر سیف نے اس بات کا اعادہ کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت پنجاب کو صحت کی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے تیار ہے، لیکن بدقسمتی سے وہاں ترجیحات عوام نہیں بلکہ مفادات ہیں۔





