وفاقی حکومت نے مالی سال 2025 کے بجٹ میں ٹیکس نظام کو مؤثر بنانے اور ٹیکس نیٹ میں توسیع کے لیے سخت اقدامات متعارف کرا دیے ہیں، جو یکم جولائی 2025 سے نافذ العمل ہوں گے۔
منظور شدہ فنانس بل کے تحت اب فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ سیلز ٹیکس ایکٹ کے تحت رجسٹریشن کے اہل مگر رجسٹریشن نہ کرانے والے افراد یا اداروں کو زبردستی رجسٹر کرے۔ اس مقصد کے لیے ایف بی آر کے مجاز افسران یا کمشنر ان لینڈ ریونیو اپنی تحقیقات کی بنیاد پر کارروائی کر سکیں گے۔
اس کے علاوہ، فنانس بل میں دو نئی شقیں 14AC اور 14AD شامل کی گئی ہیں، جن کے تحت نان فائلرز اور ٹیکس رجسٹریشن سے دانستہ گریز کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی اقدامات کیے جائیں گے۔
رپورٹس کے مطابق شق 14AC کے تحت کمشنر ان لینڈ ریونیو کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی غیر رجسٹرڈ فرد یا کاروبار کے بینک اکاؤنٹس کو تحریری حکم نامے کے ذریعے بند کروا سکتا ہے، اور یہ پابندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک متعلقہ شخص ایف بی آر میں رجسٹریشن نہیں کروا لیتا۔
ٹیکس ماہرین کے مطابق یہ اقدامات ٹیکس چوری کی روک تھام، مالیاتی شفافیت میں بہتری، اور قومی آمدنی میں اضافہ کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔ تاہم، بعض حلقوں کی جانب سے خدشات کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے کہ ان اختیارات کا غلط استعمال ہو سکتا ہے۔
حکومت کی جانب سے عوام اور کاروباری طبقے کو رجسٹریشن اور فائلنگ کے عمل میں سہولیات فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے تاکہ نئے اقدامات کو مؤثر اور منصفانہ انداز میں نافذ کیا جا سکے۔





