تہران: ایران کے نائب وزیر خارجہ مجید تخت روانچی نے واضح کیا ہے کہ اگر امریکا اسرائیل کے ساتھ جنگ میں شامل ہوا تو ایران کے پاس جوابی کارروائی کے سوا کوئی راستہ نہیں ہوگا۔
امریکی نشریاتی ادارے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ایرانی نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران جوہری ہتھیاروں پر یقین نہیں رکھتا اور اس کی دفاعی پالیسی میں ان ہتھیاروں کا کوئی کردار نہیں، تاہم اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو وہ ہر ضروری ہدف کو نشانہ بنائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہم کسی سے جنگ نہیں چاہتے لیکن اگر جنگ مسلط کی گئی تو دفاع میں کارروائی کریں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران نے امریکا یا اسرائیل سے جوہری مذاکرات کی بحالی کے لیے کوئی رابطہ نہیں کیا، کیونکہ ایران دھمکیوں کے سائے میں بات چیت نہیں کر سکتا۔
تخت روانچی کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حملوں کے بعد ایرانی عوام اپنی حکومت کے ساتھ مزید متحد ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اور امریکا کے پاس دنیا کے جدید ترین اور مہلک ترین جوہری ہتھیار موجود ہیں، اور یہی ممالک دنیا میں بدامنی، جنگ اور انتشار کے ذمہ دار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : ایران-اسرائیل کشیدگی: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس جمعے کو طلب
انہوں نے مزید کہا کہ ایران ہمیشہ سفارت کاری کی حمایت کرتا رہا ہے، لیکن روزانہ کی بمباری کے درمیان مذاکرات کی توقع رکھنا حقیقت سے فرار ہے۔ ایران کسی سے بھیک نہیں مانگتا، صرف اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔





