اقوامِ متحدہ میں بھارت کے سابق مستقل مندوب اور سینئر سفارت کار ٹی ایس ترومورتینے سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے تاریخی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدےکو بھارت کے لیے ایک بڑی جیو پولیٹیکل ناکامی قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹویٹر) پر صحافی سدھانت سبال کی ایک پوسٹ کو شیئرکرتے ہوئے سابق بھارتی سفیر نے لکھا کہ فروری کے اختتام پر ایران جنگ شروع ہونے کے فوراً بعد انہوں نے 10 مارچ کو معروف بھارتی اخبار دی ہندومیں لکھا تھا کہ اس تمام صورتحال سے ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کو فائدہ پہنچے گا۔
.@sidhant Soon after the Iran war started end February, I had written the following in @the_hindu of 10 March: Türkiye, Saudi Arabia & Pakistan will benefit. Their ambitions and stock will rise to fill the regional space. This is not good news for India
Now this is coming true. https://t.co/kMGeXm8cdZ
— Amb T S Tirumurti (@ambtstirumurti) August 7, 2026
انہوں نے اپنے اس پرانے تجزیے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان تینوں ممالک کی علاقائی خواہشات اور اہمیت بڑھیں گی اور وہ خطے کے اس خالی پن کو پرکریں گے جو بھارت کے لیے بالکل بھی اچھی خبر نہیں ہے۔
ٹی ایس ترومورتی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ان کی وہ پیشن گوئی اور پیش رفت اب سچ ثابت ہو رہی ہے۔
انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے اس نئے دفاعی اتحاد نے خطے کا توازن بدل کر رکھ دیا ہے اور اس پیش رفت نے پاکستان کو ایک بار پھر علاقائی و عالمی سطح پر ایک اہم ترین دفاعی کھلاڑی کے طور پر سامنے لا کھڑا کیا ہے۔





