وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے خلاف آڈیو لیکس کیس میں اہم پیشرفت سامنے آ گئی، جہاں اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے ان پر فردِ جرم عائد کرنے کے لیے 2 جولائی کی تاریخ مقرر کر دی۔
تفصیلات کے مطابق کیس کی سماعت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نصر من اللہ بلوچ نے کی، جس دوران علی امین گنڈاپور اپنے وکیل راجا ظہور الحسن کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔ وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ان کے موکل کو پشاور ہائی کورٹ سے پہلے ہی ضمانت مل چکی ہے۔
سماعت کے دوران علی امین گنڈاپور نے عدالت سے استفسار کیا کہ ’’سر، کیا مجھے بولنے کی اجازت ہے؟ کیا لائسنس کے بارے میں سوال کرنا جرم ہے؟ مجھے تو ایوارڈ دینا چاہیے تھا، لیکن میرے خلاف آڈیو لیک کا مقدمہ درج کر دیا گیا۔‘‘
اس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ یہ نکات کیس کے میرٹ سے متعلق ہیں، فی الوقت اصل مسئلہ یہ ہے کہ آپ عدالت میں مسلسل پیش نہیں ہوتے۔ جواب میں علی امین گنڈاپور نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ متعدد بار عدالت میں پیش ہو چکے ہیں اور اسی تاریخ کو ان کی ایک اور عدالت میں پیشی ہے۔
عدالت نے اس کے باوجود واضح کیا کہ فردِ جرم عائد کرنے کی کارروائی کے لیے ان کی ذاتی حاضری ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے ان کے وارنٹ گرفتاری منسوخ کر دیے اور آئندہ سماعت کی تاریخ 2 جولائی مقرر کر دی۔
یاد رہے کہ علی امین گنڈاپور کے خلاف یہ مقدمہ آڈیو لیکس کے معاملے پر درج کیا گیا ہے، جس میں مبینہ طور پر حساس نوعیت کے معاملات سے متعلق گفتگو شامل تھی۔





