پشاور( محمد اعجاز آفریدی)حکومت خیبر پختونخوا نے سرکاری ملازمتوں میں بھرتی کے لیے عمر کی بالائی حد میں نرمی سے متعلق قواعد میں اہم ترمیم کردی ہے۔
محکمہ اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق خیبر پختونخوا سول سرونٹس ایکٹ 1973 کے تحت ابتدائی تقرری برائے سول پوسٹس کے لئے عمر کی حد میں نرمی کے قواعد 2008 میں تبدیلی کی گئی ہے جس کے بعد مختلف عہدوں پر تعیناتی کے لیے عمر کی نرمی مجاز حکام کی منظوری سے دی جا سکے گی۔
اعلامیہ کے مطابق ترمیم کے بعد گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے عہدوں پر تعیناتی کے لیے ایڈمنسٹریٹو سیکرٹری دو سال، سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ پانچ سال اور چیف سیکرٹری دس سال تک عمر میں نرمی دے سکیں گے۔
گریڈ 16 اور اس سے کم کی سیکرٹریٹ پوسٹوں کے لیے اسپیشل سیکرٹری پانچ سال اور سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ دس سال تک نرمی دے سکتے ہیں۔
گریڈ 16 اور اس سے کم کی غیر سیکرٹریٹ پوسٹوں پر تقرری کے لیے متعلقہ مجاز اتھارٹی دو سال، ایڈمنسٹریٹو سیکرٹری پانچ سال اور سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ دس سال تک عمر کی حد میں نرمی دے سکے گا۔
تقرریوں سے متعلق قواعد میں ایک اور اہم ترمیم کے تحت شہداء کے اہل خانہ کو خصوصی رعایت دی گئی ہے۔
نئے قاعدے کے مطابق بیوہ، بیٹا یا بیٹی جس کا سرکاری ملازم دہشت گردی کے کسی واقعے میں شہید ہوا ہو، انہیں بھی عمر کی حد میں نرمی دی جا سکے گی۔
نوٹیفکیشن چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا کی منظوری سے جاری کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چینی کی قیمتوں میں توازن کے لیے حکومت کا 5 لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کا فیصلہ
محکمہ اسٹبلشمنٹ کے مطابق ان ترامیم کا مقصد نوجوانوں کو سرکاری ملازمت کے زیادہ مواقع فراہم کرنا اور شہداء کے ورثاء کو باعزت روزگار دینا ہے۔





