اسلام آباد : پاک بحریہ کی کمانڈ اینڈ اسٹاف کانفرنس نیول ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں منعقد ہوئی، جس کی صدارت چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف، NI (M)، T Bt نے کی۔ کانفرنس میں پرنسپل اسٹاف آفیسرز اور فیلڈ کمانڈرز نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران نیول چیف نے سمندری حدود میں روایتی اور غیر روایتی خطرات کے پیش نظر مسلسل جنگی تیاری برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ خطے خصوصاً مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کے باعث بحری سلامتی کے ماحول میں نئے خطرات ابھر رہے ہیں، جن میں بحری آمدورفت کی آزادی، اہم سمندری راستوں (Sea Lines of Communication – SLOCs) میں ممکنہ خلل اور اسٹریٹجک چوک پوائنٹس پر غیر یقینی صورتحال شامل ہے۔
ایڈمرل نوید اشرف نے اس بات پر زور دیا کہ جدید اور نایاب (niche) ٹیکنالوجیز کا حصول پاکستان نیوی کے لیے ایک ناگزیر اسٹریٹجک ضرورت بن چکا ہے، تاکہ بدلتے ہوئے بحری خطرات کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ پاک بحریہ خطے میں امن، استحکام اور بحری سلامتی کے فروغ میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہے، اور خلیجِ عمان (GOO) میں موجودگی کے ذریعے بحری برادری کو مسلسل تحفظ کا احساس فراہم کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان امن چاہتا ہے مگر انصاف اور اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں، صدر مملکت
کانفرنس میں معرکۂ حق کی پہلی سالگرہ بھی منائی گئی، جس کے دوران مئی 2025 کے دوران ہونے والے واقعات اور قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ نیول چیف نے اسے قومی اتحاد اور بیرونی جارحیت کے خلاف آہنی عزم کی علامت قرار دیا۔
اجلاس میں پاک بحریہ کی مجموعی آپریشنل تیاری، جاری منصوبوں اور آئندہ سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ بھی لیا گیا۔ اس دوران خطے کی بدلتی بحری سیکیورٹی صورتحال کے مطابق حکمت عملی اور آپریشنل ترجیحات کو مزید مؤثر بنانے پر غور کیا گیا۔
واضح رہے کہ کمانڈ اینڈ اسٹاف کانفرنس پاک بحریہ کا اعلیٰ ترین فیصلہ سازی کا فورم ہے، جہاں نیول چیف، پرنسپل اسٹاف آفیسرز اور فیلڈ کمانڈرز مل کر اسٹریٹجک پالیسیوں اور آپریشنل ترجیحات کا تعین کرتے ہیں۔





