قائد حزب اختلاف عمر ایوب نے وفاقی بجٹ 2025-26 پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ مالیاتی پالیسیوں کا فائدہ صرف حکومت اور بینک مالکان کو ہو رہا ہے، عام عوام کے لیے اس بجٹ میں کوئی ریلیف نہیں رکھا گیا۔
اپنے بیان میں عمر ایوب کا کہنا تھا کہ ’’بینک جو قرض دے رہے ہیں اُس کا فائدہ حکومت کے سوا کسی کو نہیں ہو رہا، اور اس بجٹ میں بینک مالکان ارب پتی سے کھرب پتی بن رہے ہیں۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ ملکی مالیاتی ڈھانچہ عوام کے بجائے اشرافیہ کو فائدہ پہنچا رہا ہے۔
انہوں نے ترقیاتی بجٹ پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے صرف 55 کروڑ روپے رکھے گئے، جبکہ باقی سارا بجٹ تختِ لاہور کے قدموں میں ڈال دیا گیا ہے۔‘‘
عمر ایوب کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کا یہ بجٹ قومی یکجہتی کے بجائے سیاسی تقسیم اور مالیاتی ناانصافی کو فروغ دے رہا ہے۔
دوسری جانب چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے بین الاقوامی معاملات پر بات کرتے ہوئے اسرائیل کی جانب سے ایران پر مبینہ حملے کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ ’’اسرائیل نے ایران کی خودمختاری پر بلا اشتعال حملہ کیا ہے، اور اب ایران کو اپنے
دفاع میں ہر طرح سے طاقت کے بھرپور استعمال کا پورا حق حاصل ہے۔‘‘
بیرسٹر گوہر نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کرے اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کو یقینی بنائے۔





