پشاور: سابق صوبائی وزیر اجمل خان وزیر نے سوات کے حالیہ افسوسناک واقعے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
پختون ڈیجیٹل پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور محکمہ سیاحت کہاں تھے؟ اگر دفعہ 144 نافذ تھی تو اس پر عملدرآمد کیوں نہیں ہوا؟
اجمل وزیر نے کہا کہ سوات واقعے کی جو ویڈیوز منظرعام پر آئی ہیں، وہ دیکھنا مشکل ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایسے دلخراش واقعات کے پیچھے ذمہ داری کس کی ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ جس معاشرے میں سزا و جزا کا نظام نہ ہو، وہاں ایسے واقعات بار بار رونما ہوتے ہیں۔
انہوں نے موجودہ سیاسی صورتِ حال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف میں اس وقت پی ٹی آئی ورسس پی ٹی آئی کی کیفیت ہے، پارٹی کے اندر ہی اختلافات کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کا بیان کہ اگر بجٹ پاس نہ کرتا تو کوئی راستہ نہ ہوتا اپنی جگہ، مگر اگر چیئرمین عمران خان علی امین گنڈاپور سے ناخوش ہیں تو یا اسمبلی توڑیں یا استعفیٰ دیں، تاہم ایسا ہوتا نظر نہیں آتا۔
یہ بھی پڑھیں : مہمند ڈیم: دریائے سوات میں پانی کا بہاؤ معمول پر ہے، انجینئر خالق داد
سابق وزیر نے کہا کہ معصوم شہری جو پانی کے تیز ریلے میں بہہ گئے، ان کا حساب کون دے گا؟ ذمہ داری حکومت اور متعلقہ اداروں پر عائد ہوتی ہے کہ وہ بروقت انتظامات کرتے۔
ساتھ ہی انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ سفر سے قبل موسم کی صورت حال کا ضرور جائزہ لیں۔





