دریائے سوات کی لہریں بے قابو، وارننگ سسٹم کی عدم موجودگی نے نقصان بڑھا دیا

دریائے سوات کی لہریں بے قابو، وارننگ سسٹم کی عدم موجودگی نے نقصان بڑھا دیا

دریائے سوات میں ارلی فلڈ وارننگ سسٹم کی عدم تنصیب کا انکشاف ہوا ہے، جو 2010 کے بعد فراہم کیے جانے کے باوجود تاحال فعال نہ ہو سکا۔

نجی ٹی وی چینل (دنیا نیوز) کے مطابق، یہ سسٹم متعلقہ اداروں کے غیر فعال دفاتر میں برسوں سے پڑا ہوا ہے، جبکہ سوات میں بار بار آنے والے سیلابی خطرات کے باوجود عملی اقدامات نہیں کیے گئے۔

ذرائع کے مطابق، اگر یہ وارننگ سسٹم بروقت نصب کر لیا جاتا تو حالیہ واقعات میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع روکا جا سکتا تھا۔ یاد رہے کہ صرف دو روز قبل دریائے سوات میں طغیانی کے باعث 12 افراد جاں بحق ہو گئے، جن میں 9 کا تعلق ڈسکہ اور 2 کا مردان سے بتایا گیا ہے۔

ریسکیو ادارے، محکمہ آبپاشی، ریلیف ڈپارٹمنٹ اور دیگر متعلقہ حکام پندرہ سال گزرنے کے باوجود فلڈ وارننگ سسٹم نصب کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔ مقامی شہریوں اور ماہرین نے اس غفلت پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

ماحولیاتی تبدیلیوں اور بارشوں کے بڑھتے رجحان کے پیش نظر ارلی وارننگ سسٹم کی تنصیب اب ناگزیر ہو چکی ہے تاکہ آئندہ ایسے سانحات سے بروقت خبردار ہو کر جانی و مالی نقصان سے بچا جا سکے۔

Scroll to Top