خیبرپختونخوا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے،ایچ آر سی پی

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی ) نے خیبر پختونخوا میں انسانی حقوق کی صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ سال کے دوران صوبے میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

ایچ آر سی پی کی سالانہ رپورٹ 2024 کے مطابق خیبر پختونخوا میں قانون کی بالادستی، جبری گمشدگیوں، خواتین اور اقلیتوں کے حقوق، آزادی اظہار اور بچوں کے تحفظ سے متعلق متعدد سنگین نوعیت کی خلاف ورزیاں رپورٹ ہوئی ہیں۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سال 2024 کے دوران صوبے میں خواتین پر گھریلو تشدد کے 395، ریپ کے 195، اغوا کے 860 اور قتل کے 693 واقعات رپورٹ ہوئے جن میں سے 124 قتل غیرت کے نام پر کیے گئے۔

اسی طرح خواجہ سراؤں پر تشدد کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا۔ گزشتہ سال چار خواجہ سرا قتل اور آٹھ زخمی ہوئے جبکہ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران 267 خواجہ سراؤں کو مختلف نوعیت کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

بچوں سے متعلقہ جرائم میں بھی تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آیا۔ رپورٹ کے مطابق خواتین پر تشدد کے 77 اور بچوں کے خلاف 49 مقدمات درج ہوئے۔ صرف پشاور اور مردان میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے 105 سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے۔

کمیشن کے مطابق جبری گمشدگیوں کے واقعات، ریاستی اداروں کی جانب سے طاقت کا استعمال اور اقلیتوں و پسماندہ طبقات کے خلاف امتیازی سلوک جیسے معاملات انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی واضح مثالیں ہیں۔

رپورٹ میں افغان مہاجرین کی جبری واپسی، صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنان کو درپیش خطرات اور پولیس کے ہاتھوں ہلاکتوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :دریائے سوات کے اطراف تجاوزات کیخلاف کریک ڈاؤن، غیر قانونی ہوٹلز اور پارکس منہدم

ایچ آر سی پی کے چیئرمین اسد اقبال بٹ نے مطالبہ کیا ہے کہ صوبائی اور وفاقی حکومتیں ان خدشات کو سنجیدگی سے لیں اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر اور فوری اقدامات یقینی بنائیں۔

Scroll to Top