اُلٹی گنگا بہنے لگی ،عالمی منڈی میں تیل سستا ہونے کے باوجود پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کی گئیں، عوام سیخ پا

ملک میں مہنگائی کی لہر نے ایک بار پھر شدت اختیار کرلی ہے، جب وفاقی حکومت نے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 10 روپے سے زائد کا بھاری اضافہ کر دیا۔

وزارت خزانہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق، پیٹرول کی نئی قیمت 266 روپے 79 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت 272 روپے 98 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی کاربن لیوی کے نام پر 2 روپے 50 پیسے فی لیٹر کا نیا ٹیکس بھی عائد کیا گیا ہے۔

اعلامیے میں قیمتوں میں اضافے کی وجہ ’’عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں رد و بدل‘‘ بتائی گئی، تاہم عوامی سطح پر اس فیصلے پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

صبح سویرے دفاتر جانے والے شہری پیٹرول پمپس پر نئی قیمتیں سن کر پریشان نظر آئے۔ ایک شہری نے کہا:۔
’’یہ اضافہ صرف پیٹرول تک محدود نہیں رہے گا، اب آٹا، سبزیاں، دودھ، ہر چیز مہنگی ہوگی۔‘‘
دوسرے شہری نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا:۔
’’کاربن لیوی کے نام پر عوام کو لوٹا جا رہا ہے، حکومت کو عام آدمی کی تکلیف کا احساس نہیں۔‘‘

مہنگائی کی نئی لہر کا خدشہ
معاشی ماہرین کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ٹرانسپورٹ کرایوں، اشیائے خورونوش اور دیگر ضروریات زندگی کی قیمتوں میں مزید اضافہ متوقع ہے، جس سے متوسط اور نچلے طبقے پر دباؤ مزید بڑھے گا۔

اپوزیشن کا شدید ردعمل
اپوزیشن جماعتوں نے حکومتی فیصلے کو ’’غریب کش پالیسی‘‘ قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہو رہی ہیں تو پاکستان میں اضافہ کسی صورت قابل قبول نہیں۔

عوامی حلقوں کی جانب سے بھی یہی سوال گونج رہا ہے کہ:۔
’’جب دنیا میں تیل سستا ہو رہا ہے، تو پاکستان میں مہنگا کیوں؟‘‘
اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت عوامی دباؤ اور معاشی اثرات کے پیش نظر اس فیصلے پر نظرثانی کرتی ہے یا نہیں۔

Scroll to Top