اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی کو سابق مشیر اسمبلی کا 10 کروڑ روپے ہرجانے کا نوٹس،وجہ کیابنی ؟ جانئے

اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی کو سابق مشیر اسمبلی کا 10 کروڑ روپے ہرجانے کا نوٹس،وجہ کیابنی ؟ جانئے

خیبرپختونخوا اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی کو سابق مشیر اسمبلی علی عظیم آفریدی کی جانب سے 10 کروڑ روپے ہرجانے کا قانونی نوٹس بھجوایا گیا ہے، جس میں اسپیکر پر سنگین الزامات عائد کرنے اور ساکھ کو نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

نجی ٹی وی چینل (آج نیوز) کے مطابق قانونی نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اسپیکر کی جانب سے جاری کی گئی حالیہ پریس ریلیز سے علی عظیم آفریدی کی ذاتی و پیشہ ورانہ شہرت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ آفریدی کا کہنا ہے کہ اسپیکر نے اُن پر بے بنیاد اور گمراہ کن الزامات عائد کیے، جن میں سابق حکومت کے لیے کام کرنے، سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے اور اسمبلی کے قانونی معاون کے عہدے سے کسی کے دباؤ پر استعفیٰ دینے جیسے دعوے شامل ہیں۔

علی عظیم آفریدی نے ان الزامات کو حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ذاتی رضامندی سے استعفیٰ دیا، کسی سیاسی یا غیرسیاسی دباؤ کے باعث نہیں۔

نوٹس میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اسپیکر کے ان بیانات نے نہ صرف آفریدی کی پیشہ ورانہ ساکھ پر سوالات کھڑے کیے بلکہ اُن کے کیریئر کو بھی متاثر کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اسپیکر کے پریس سیکرٹری کو بھی الگ سے 10 کروڑ روپے ہرجانے کا نوٹس بھیجا گیا ہے، جس میں جاری کردہ پریس ریلیز کو بدنیتی پر مبنی اور کردار کشی کا حربہ قرار دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اگر اسپیکر اور ان کے ترجمان کی جانب سے قانونی نوٹس کا مناسب جواب نہ دیا گیا تو علی عظیم آفریدی عدالتی کارروائی کا آغاز کر سکتے ہیں۔

Scroll to Top