مردان :خیبرپختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ وہ بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے اس لیے ملاقات کرتے ہیں کیونکہ بانی پی ٹی آئی خود ان سے ملاقات کے خواہشمند ہوتے ہیں،اگر بانی پی ٹی آئی ان سے نہ ملنا چاہیں تو وہ کھل کر کہہ سکتے ہیں کہ وہ نہیں ملنا چاہتے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر سیف نے جنید اکبر کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ بانی پی ٹی آئی کی طرف سے سونپی گئی ذمہ داریاں پوری نہیں کر پا رہے جس کی وجہ سے وہ پریشان نظر آتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ کام کرتے ہیں وہ الزامات نہیں لگاتے۔ جنید اکبر کو مشورہ دیا کہ پارٹی ایک مشکل دور سے گزر رہی ہے، اس لیے رونے دھونے کے بجائے گھر بیٹھ جانا بہتر ہوگا۔
انہوں نے امیر مقام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے بھائی وزیراعلیٰ بن جائیں گے تو یہ ان کی خام خیالی ہے۔ بیرسٹر سیف نے واضح کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت کو کوئی خطرہ نہیں، تمام ارکان حکومت کے ساتھ ہیں اور وہ اپنی آئینی مدت پوری کرے گی۔
سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے بعد آئین کے مطابق جو بھی اقدام ہوگا، صوبائی حکومت اس پر عمل کرے گی۔ مخصوص نشستوں سے متعلق فیصلہ انہوں نے غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کو 26ویں آئینی ترمیم پر خوش ہونا چاہیے کیونکہ اسی ترمیم کی بنیاد پر سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے۔
سانحہ سوات سے متعلق بیرسٹر سیف نے بتایا کہ انکوائری جاری ہے اور جو بھی اس واقعے کا ذمہ دار ہوگا، اسے قرار واقعی سزا دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ناجائز تعمیرات اور غیر قانونی مائننگ کے خلاف آپریشن بھی جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں : اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی کو سابق مشیر اسمبلی کا 10 کروڑ روپے ہرجانے کا نوٹس،وجہ کیابنی ؟ جانئے
بجٹ سے متعلق سوال پر بیرسٹر سیف نے کہا کہ خیبرپختونخوا کا بجٹ منظور ہو چکا ہے اور اس حوالے سے کوئی مسئلہ درپیش نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے بھی خیبرپختونخوا حکومت اور صوبائی اسمبلی کی جانب سے بجٹ کی منظوری کی توثیق کی ہے۔





