رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں پارٹی سے نکالنے میں سابق چیئرمین تحریک انصاف کی ہمشیرہ علیمہ خان کا براہ راست ہاتھ ہے۔
نجی ٹی وی چینل (سماء) سے گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے کہا کہ پارٹی کے اہم فیصلے بدنیتی پر مبنی ہو رہے ہیں اور تحریک انصاف اب تقسیم ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’مجھے پارٹی سے علیمہ خان کی مداخلت پر نکالا گیا، جبکہ حقیقی فیصلوں کا اختیار کسی اور کے پاس ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ بانی تحریک انصاف ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنے پر اصرار کرتے ہیں، لیکن اسٹیبلشمنٹ واضح طور پر کہہ چکی ہے کہ وہ حکومت کو دھوکہ نہیں دے سکتی۔ شیر افضل مروت کے مطابق صرف اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات پر اصرار کرنا مسئلے کا حل نہیں ہے۔
شیر افضل مروت نے 26 نومبر کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’’اس روز ہم بانی کی رہائی سے بہت قریب تھے اور ڈیل ہو چکی تھی، مگر سنگجانی پر قیادت کی جانب سے روکے جانے کے باعث موقع ضائع ہو گیا۔‘‘ انہوں نے الزام لگایا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو درست بریفنگ نہیں دی جاتی اور ان تک پیغامات پہنچانے میں خیانت کی جاتی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر 8 فروری کے بعد انہیں احتجاج جاری رکھنے دیا جاتا تو بانی تحریک انصاف آج رہا ہوتے۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت کو فی الحال کوئی خطرہ نہیں ہے۔
شیر افضل مروت کے ان بیانات نے پارٹی کے اندر جاری اختلافات کو مزید نمایاں کر دیا ہے، جبکہ ان کے الزامات سے قیادت کی صفوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔





