وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی ناقص پالیسیوں کے باعث پاک افغان سرحد پر واقع انگوراڈہ گیٹ گزشتہ 21 ماہ سے تجارتی سرگرمیوں کے لیے مکمل طور پر بند ہے۔
پاک افغان سرحد پر واقع انگوراڈہ گیٹ کی بندش کے باعث نہ صرف مقامی معیشت شدید بحران کا شکار ہو چکی ہے بلکہ ہزاروں افراد کا روزگار بھی ختم ہو چکا ہے۔
بارڈر بندش کے باعث جنوبی وزیرستان، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان میں کاروباری سرگرمیاں تقریباً مفلوج ہو چکی ہیں۔
چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری جنوبی وزیرستان کے صدر سیف الرحمان کے مطابق نگوراڈہ بارڈر کی بندش سے مقامی تاجروں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے ، قومی خزانے کو بھی اربوں روپے کا خسارہ برداشت کرنا پڑا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تجارتی سرگرمیوں کی بندش سے علاقے میں اربوں روپے کا مالی نقصان ہو چکا ہے جبکہ کاروباری طبقہ شدید مالی مشکلات کا شکار ہے لیکن حکومت کی جانب سے اب تک سرحدی تجارت کی بحالی کے لیے کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا گیا۔
چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری جنوبی وزیرستان کے صدر نے کہا کہ اگر صورتحال یونہی برقرار رہی تو آنے والے دنوں میں خطے میں غربت، بیروزگاری اور بدامنی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: افغان سرحد سے دراندازی کی کوشش ناکام، 30 بھارتی حمایت یافتہ دہشتگرد ہلاک
مقامی تاجر برادری نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ نگوراڈہ بارڈر کو فوری طور پر کھولا جائے اور تجارتی سرگرمیوں کو بحال کیا جائے تاکہ علاقائی معیشت کو دوبارہ زندہ کیا جا سکے اور عوام کو ریلیف فراہم ہو۔





