ایم ٹی آئی سسٹم نے علاج کو کاروبار میں بدل دیا، خیبرپختونخوا میں سرجری تک ممکن نہیں ،ڈاکٹر فیضان

پشاور: خیبرپختونخوا میں صحت کی سہولیات کی زبوں حالی پر پختون ڈاکٹروں کی نمائندہ تنظیم پی ڈی اے کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر محمد فیضان نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

پختون ڈیجیٹل پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر عالمی ادارۂ صحت (WHO) کی سفارشات دیکھی جائیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان میں ڈاکٹرز، نرسز اور سرجنز کی شدید کمی ہے، جو عوام کی صحت پر سنگین اثر ڈال رہی ہے۔

ڈاکٹر فیضان نے کہا کہ سندھ میں گردوں کے علاج کے لیے مؤثر اسپتال موجود ہیں، پنجاب میں پی کے ایل آئی (PKLI) جیسا ادارہ مریضوں کو بہترین سہولیات فراہم کر رہا ہے، لیکن خیبرپختونخوا میں واحد ٹرانسپلانٹ سینٹر گزشتہ 35 دنوں سے بند رہا ہے، اور صرف ایک ٹرانسپلانٹ ہوا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2017 کے بعد ڈاکٹرز کی تنخواہوں، سیکیورٹی اور ملازمتوں سے متعلق کسی وعدے پر عمل نہیں کیا گیا۔ حکومت وعدے تو کرتی ہے، مگر عملی طور پر کچھ نہیں ہوتا۔ خیبرپختونخوا کے ڈاکٹرز کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر فیضان نے کہا کہ ایم ٹی آئی نظام (میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹیوشنز) نے علاج کو کاروبار بنا دیا ہے۔ جب ایمرجنسی مریضوں کو مہینوں بعد کی تاریخ دی جاتی ہے، او ٹی میں بنیادی سامان نہیں ہوتا، اور ایل آر ایچ جیسے بڑے اسپتالوں میں جدید سرجری ممکن نہ ہو، تو یہ عوامی صحت پر ایک خطرناک حملہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں : علی امین گنڈاپور: امیر مقام کے ہوٹل کی تجاوزات قانون کے مطابق ہٹائی جائیں گی، سیاسی انتقام نہیں لیا جائے گا ،طارق وحید

انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب حکومت خود کہتی ہے کہ وہ وفاق کو قرض دے سکتی ہے، تو پھر صحت جیسے اہم شعبے کو کیوں نظرانداز کیا جا رہا ہے؟ صاف ظاہر ہے مسئلہ وسائل کا نہیں بلکہ نیت اور ترجیحات کا ہے۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ ڈاکٹرز کا احتجاج عوام کے بہتر علاج کے لیے ہوتا ہے، لیکن حکومت اصلاحات کے بجائے صرف وعدوں پر اکتفا کرتی ہے۔ نہ نئے اسپتال بنائے گئے، نہ آئی سی یوز فراہم کیے گئے، اور نہ ہی صحت کے نظام میں کوئی بہتری آئی۔

ڈاکٹر محمد فیضان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ صحت کے شعبے کو اولین ترجیح دی جائے تاکہ عوام کو بنیادی علاج کی سہولیات میسر آ سکیں۔

Scroll to Top