پنجاب حکومت کی مالی بے ضابطگیوں سے متعلق بیرسٹر سیف کے الزامات پر عظمیٰ بخاری نے سخت ردعمل دیتے ہوئے انہیں ’’جھوٹ کا پلندہ‘‘ قرار دیا اور کہا کہ خیبرپختونخوا میں گزشتہ 12 سال سے کرپشن کی وہی داستان رقم ہو رہی ہے جو پنجاب میں بزدار اور فرح گوگی کے دور میں دہرائی گئی۔
نجی ٹی وی چینل (آج)کے مطابق آڈٹ رپورٹ کے حوالے سے خیبرپختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف نے الزام عائد کیا تھا کہ پنجاب حکومت 10 کھرب روپے کی مالی بے ضابطگیوں کی وضاحت دینے سے قاصر ہے، جو ان کے مطابق ’’مریم نواز کی کرپشن پر مہر تصدیق‘‘ ہے۔ انہوں نے شریف خاندان کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ خاندان’’عوام کا پیسہ لوٹ کر لندن منتقل کر رہا ہے‘‘۔
بیرسٹر سیف نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پنجاب میں ترقیاتی منصوبے عوامی مفاد کے بجائے کمیشن کے حصول کے لیے شروع کیے جا رہے ہیں، اور سوشل میڈیا پر جھوٹے دعوے کر کے عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔
عظمیٰ بخاری کا بھرپور ردعمل
پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے جوابی وار کرتے ہوئے کہا کہ بیرسٹر سیف جس آڈٹ رپورٹ کا حوالہ دے رہے ہیں، وہ عثمان بزدار اور پرویز الہیٰ کے ادوار سے متعلق ہے۔ انہوں نے بیرسٹر سیف کو ’’جعلی دانشور‘‘ قرار دیتے ہوئے مشورہ دیا کہ وہ آڈٹ رپورٹ کے صفحہ 87 اور 96 کو ’’غور سے پڑھیں، شاید کچھ شرم آ جائے‘‘۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ 10 کھرب روپے کی رقم گندم سبسڈی اور خریداری سے متعلق ہے جو 2018 سے 2023 کے درمیان خرچ ہوئی، اور سب جانتے ہیں اس وقت پنجاب میں کس کی حکومت تھی۔
انہوں نے خیبرپختونخوا میں 12 سال سے جاری مبینہ کرپشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ’’آپ کا لیڈر بغضِ شریف میں وزیراعظم ہاؤس سے سیدھا اڈیالہ جا پہنچا، اور اب علی امین اور بیرسٹر سیف کا نیکسٹ اسٹاپ بھی وہی لگتا ہے۔‘‘





